The news is by your side.

Advertisement

علی ظفر کیس:‌ میشا شفیع کے مینیجر کا عدالت میں‌ بڑا اعتراف

لاہور کی مقامی عدالت میں علی ظفر ہتک عزت دعوے کے کیس کی سماعت کے دوران میشا شفیع کے مینیجر نے اعتراف کیا کہ وہ ہراسانی کے واقعے کے عینی شاہد نہیں ہیں۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور کے سیشن کورٹ میں اداکار علی ظفر کے ہتک عزت دعوے کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں میشا شفیع اور علی ظفر کے وکلا نے اپنے دلائل دیے۔ معزز جج نے جرح مکمل ہونے کے بعد لینیٰ غنی کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ۔

میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے ایک گواہ کو بھی پیش کیا گیا جس سے علی ظفر کے وکیل نے سوالات کیے۔ گلوکار و اداکار کے وکیل نے کمرہ عدالت میں سوال کیا کہ ’ میشا شفیع کہتی ہیں جیمنگ سیشن بہترین تھا آپ کہتے ہیں وہ پریشان تھی سچا کون ہے؟ علی ظفر کے وکیل کے سوال پر گلوکارہ کے گواہ  لاجواب  ہوگئے۔

سماعت کے دوران علی ظفر کے وکیل کے سوال پر  مینیجر فرحان علی نے اعتراف کیا کہ ‘‘ہراساں کرنے کے معاملےکے بارے میں میشا شفیع نے انہیں ٹیلی فون پر آگاہ کیا البتہ یہ تفصیل نہیں بتائی کہ واقعہ کب، کہاں اور کیسے پیش آیا ‘‘۔

مزید پڑھیں: میں صلح کے لئے تیار ہوں، میشا شفیع کا ٹوئٹ

علی ظفر کے وکیل نے گواہ سے پوچھا  کہ ہراساں کرنے کے الزام سے  علی طفر کا کام متاثر ہوا تو جواب میں مینجر نے بتایا کہ میشا شفیع کا کام بھی متاثر ہوا لیکن گلوکارہ کو ملٹی نیشنل برانڈز کا  کام ملتا رہا۔

اس پر درخواست گزار کے وکیل نے جر ح کی کہ کیا میشا شفیع کی عاطف اسلم سے دوستی ہے یا نہیں؟ کیونکہ پروگرام سے عاطف اسلم کو ہٹا کر علی ظفر کو پروجیکٹ دیا گیا تھا۔

اس سوال پر گواہ نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔

علی ظفر کے وکیل نے عدالت کے روبرو میشا شفیع کے ٹویٹس پیش کیے جس میں جیمنگ سیشن کے بعد انہوں نے علی ظفر کے ساتھ بنائی گئی تصاویر ٹویٹر پر شیئر کیں اور لکھا کہ سیشن بہت زبردست تھا‘۔

علی ظفر کے وکیل نے معزز جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میشا کا یہ بیان بتاتا ہے کہ وہ پریشان نہیں تھیں مگر مینیجر کہہ رہے ہیں کہ وہ پریشان تھیں، دونوں میں سچ کون بول رہا ہے؟۔

 ایڈیشنل سیشن جج اظہر اقبال رانجھا نے  میشا شفیع کے مینیجر فرحان علی کے بیان پر جرح مکمل کرلی۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کیس: میشا شفیع کی پیشی سے متعلق عدالت کا بڑا حکم

فرحان علی کے بیان پر جرح مکمل ہونے کے بعد عدالت کیس کی کارروائی 17 اپریل تک ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت پر لینیٰ عنی کو پابند کیا کہ وہ پیش ہو کر شہادت ریکارڈ کروائیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں