The news is by your side.

Advertisement

علی ظفر کیس: میشا شفیع کی پیشی سے متعلق عدالت کا بڑا حکم

لاہور کی مقامی عدالت نے گلوکار و اداکار علی ظفر کی سوشل میڈیا پر کردار کشی کیس میں میشا شفیع اور ماہم جاوید کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم جاری کردیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق لاہور ضلع کچہری کی عدالت میں علی ظفر کی جانب سے دائر سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی مہم کے کیس کی سماعت کی۔

کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ  ذوالفقار باری نے  کی، معزز جج نے میشا شفیع اور ماہم جاوید کو آئندہ سماعت پر ہر صورت پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ میشا شفیع کے وکیل آئندہ سماعت پر ان کی حاضری یقینی بنائیں۔

عدالت نے لینا غنی کی عدم حاضری کی معافی کی درخواست مسترد کر دی۔ علی ظفر کے وکیل نے اعتراض کیا کہ لیناغنی کی رپورٹ ایک ماہر نفسیات کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: اداکار علی ظفر کیخلاف سوشل میڈیا مہم کیس: میشا شفیع کے خلاف چالان پیش کرنے کا حکم

انہوں نے جج کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ آخر کیسے کوئی ماہر نفسیات زکام اور سردرد کا میڈیکل سرٹیفیکیٹ کر سکتا ہے ؟ رپورٹ جعلی لگتی ہے۔

معزز جج نے علی ظفر کے وکیل کے وکیل کا اعتراض سامنے آنے کے بعد کہا کہ ’آئندہ سماعت پر حاضری معافی کی تمام درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا جائے گا اور التوا کی کوئی درخواست منظور نہیں کی جائے گی‘۔

معزز جج نے حکم دیا کہ ملزمان کے وکلا آئندہ سماعت پر اپنے دلائل مکمل کردیں۔ اسی کے ساتھ عدالت نے مستقل  حاضری معافی کی درخواستوں  پر  ایف ائی اے سے بھی رپورٹ طلب کی۔

آج ہونے والی سماعت میں  عفت عمر، علی گل پیر ،٫ لینا غنی، فریحہ ایوب اور  حسیم الزمان  کی حاضری معافی کی درخواست پر بحث مکمل  ہوگئی۔

میشا شفیع کی جانب سے بھی حاضری معافی کی درخواست دائر  کی گئی جس پر  عدالت نے کہامیشا شفیع نے تاحال  ضمانت کرائی نہ وہ گرفتار ہوئیں، ایسی صورت میں وہ حاضری معافی کی درخواست کیسے دائر کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت نے میشا شفیع کے ساتھی علی گل پیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے

میشا شفیع کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف ائی اے کی جانب سے میری مؤکلہ کو کوئی نوٹس نہیں بھیجا  گیا اسی وجہ سے انہوں نے ضمانت نہیں کرائی، وہ بیرون ملک میں مقیم ہیں اس لیے پیش نہیں ہو سکتیں۔

عدالت نے  میشا شفیع کی حاضری معافی کی درخواست  پر بحث کے لیےوکلا کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 10  اپریل تک ملتوی کر دی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں