The news is by your side.

Advertisement

کیا سوئز کنال میں کوئی پاکستانی جہاز بھی تھا؟

کراچی: وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی کا کہنا ہے کہ سوئز کنال کی بندش کے دوران وہاں پاکستان کا کوئی جہاز نہیں پھنسا تاہم بندش کے معمولی سے اثرات یہاں کی امپورٹ پر ہوسکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نہر سوئز میں بحری جہاز پھنسنے سے سپلائی مینجمنٹ رکی ہے اور اس سے بہت مشکلات پیدا ہوں گی۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس راستے سے یومیہ 18 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل کی جاتی ہے، جہاز کے پھنسنے سے دنیا کی معیشت کو 400 ملین ڈالر فی گھنٹہ کا نقصان ہوا ہے۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ اب راستہ کھل چکا ہے لیکن 4، 5 دن ضائع ہونے سے بیک لاگ خطرناک ہوسکتا ہے، خوش قسمتی سے پاکستان کا کوئی جہاز وہاں نہیں تھا البتہ وہاں سے کتنے جہاز پاکستان آنا تھے یہ تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ویسے ہی بڑے معاشی مسائل کا سامنا ہے، ایکسپورٹ بڑھ گئی ہے اور امپورٹ کم ہوئی ہے جبکہ کنٹینرز کی بھی قلت ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے مصر کی نہر سوئز میں ایک بڑا تجارتی بحری جہاز پھنس گیا تھا جس سے دنیا کا اہم ترین تجارتی راستہ بلاک ہوگیا تھا۔

سوئز کنال کی بندش سے دونوں طرف 300 سے زائد جہاز پھنس گئے تھے، دنیا کی اہم تجارتی گزرگاہ بند ہونے سے یومیہ 9 ارب ڈالر مالیت کی تجارت متاثر ہوئی۔

کئی دن سے پھنسے اس جہاز کو گزشتہ رات بالآخر نکال لیا گیا تاہم اب بھی نہر سوئز پر موجود بحری جہازوں کی آمد و رفت بحال نہیں ہوسکی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں