The news is by your side.

Advertisement

علّامہ آئی آئی قاضی: علم و دانش میں‌ ممتاز اور ایک سچّے مسلمان

علّامہ آئی آئی قاضی 14 اپریل 1968ء کو جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ وہ عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن اور سندھی زبانوں کے ماہر اور ایک بیدار مغز شخص تھے جنھیں علمی حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

سندھ کے شہر حیدر آباد میں 9 اپریل 1886ء کو آنکھ کھولنے والے امداد علی امام علی قاضی کو آئی آئی قاضی کے نام سے شہرت ملی۔ آسودہ حال گھرانے کے اس بچّے کی تربیت اور تعلیم ایسی ہوئی کہ بعد میں وہ ایک عالم فاضل شخص بنا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد 1904ء میں اسکول گئے اور پھر میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ وہ انتہائی ذہین اور نصاب میں غیر معمولی دل چسپی لیتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن بھیجا گیا اور یہ وہ زمانہ تھا، جب ہندوستان تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں کی زد میں تھا۔ مسلم لیگ کا قیام عمل میں آچکا تھا اور مسلمانوں میں بیداری کی لہر دوڑ رہی تھی۔ برطانیہ میں آئی آئی قاضی نے آگاہی اور شعور کی منازل بھی تیزی سے طے کیں۔ لندن اسکول آف اکنامکس سے معاشیات اور پھر کِنگز کالج لندن سے نفسیات کی اسناد حاصل کرنے کے دوران مشہور مستشرق مسٹر آرنلڈ اور اور پروفیسر ایل ٹی ہاب ہاؤس کی صحبت سے بھی استفادہ کیا۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے جرمنی چلے گئے، جہاں اُن کی ملاقات ایلسا نامی ایک خاتون سے ہوئی اور دونوں 1910ء میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ وہ خاتون ایلسا قاضی کے نام سے پہچانی جانے لگیں۔ وہ ایک شاعرہ اور ادیبہ تھیں۔

1911ء میں آئی آئی قاضی نے بار ایٹ لا کی ڈگری حاصل کی اور انگلستان میں قانون کی پریکٹس شروع کر دی۔ سماجیات، تاریخ، ادب اور مذاہب کا تقابلی مطالعہ اُن کی ذہنی تسکین کا ایک اور میدان تھا۔ طبیعات، فلکیات، نباتیات جیسے موضوعات کے ساتھ مغربی علوم اور ادب کا بھی مطالعہ کرتے رہے۔

برطانوی حکومت نے آئی آئی قاضی کو ٹنڈو محمد خان، سندھ میں سول جج کی ملازمت کی پیش کش کی، جسے قبول کر لیا اور بعد میں خیرپور میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج کا عہدہ بھی سنبھالا۔ بعد میں‌ وہ برطانوی حکم رانوں اور انتظامیہ کے رویّے سے مایوس ہوگئے اور کام جاری رکھنے سے انکار کرتے ہوئے لندن چلے گئے۔ وہاں اپنے قیام کے دوران مختلف مذہبی اجتماعات، بالخصوص جمعے کے روز خطبات دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ مذہب پر ان کی گہری دسترس اور تقابلی مذاہب پر معلومات نے ان کے حاضرین و سامعین کو بے حد متاثر کیا۔ وہ ایک مقبول مسلمان علمی شخصیت بن چکے تھے۔ 1934ء میں علّامہ قاضی نے لندن میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے ’’جماعتُ المسلمین‘‘ کے نام سے ایک ادارے کی بھی بنیاد رکھی۔ بعد ازاں والیٔ خیر پور کے اصرار پر 1935ء میں وطن واپس لوٹے جہاں ’’انجمنِ تبلیغِ اسلام‘‘ کی صدارت سنبھالی، لیکن معمولی اُمور پر اکابرین کے اختلافات دیکھ کر دوبارہ لندن چلے گئے۔ آئی آئی قاضی نے 1938 ء میں کراچی آ کر جمعے کی نماز پڑھانے اور خطبہ دینے کا سلسلہ شروع کیا اور ان کی پُرمغز تقاریر کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔

1947ء میں جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا، تو علّامہ آئی آئی قاضی کو جج بننے کی پیش کش کی گئی، لیکن انھوں نے قبول نہ کی۔ 1951ء میں سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر کام شروع کیا اور ان کی علم دوستی کا یہ عالم تھا کہ اپنی آدھی تنخواہ اس ادارے کو دینا شروع کر دی۔ انھوں نے کئی عہدوں‌ پر کام کرتے ہوئے خود کو متحرک اور فعال اور بہترین منتظم ثابت کیا اور سندھ میں‌ تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرتے رہے۔

وہ ایک سچّے مسلمان اور نہایت قابل شخص تھے۔ کہتے ہیں‌ انھوں‌ نے دریا میں کود کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔ علّامہ آئی آئی قاضی کی آخری آرام گاہ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں