تازہ ترین

نیپرا کا بجلی مزید مہنگی کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: نیپرا نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد...

’دنیا بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی نسل کشی پر خاموش نہ رہے‘

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ...

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے سعودی وفد کی ملاقات

راولپنڈی : آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے...

ورلڈ کپ کے لیے قومی کرکٹ ٹیم کا اعلان

آئندہ ماہ بھارت میں شروع ہونے والے آئی سی...

نگران وزیراعظم آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

نیویارک : نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ آج اقوام متحدہ...

متحدہ متحد ہوگئی : پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

پاکستان کی سیاسی صورتحال اس وقت بڑے عدم استحکام سے دوچار ہے پہلے تو صرف وفاقی سطح پر سیاسی بحران تھا پھر صوبہ پنجاب اس کا شکار بنا اور جیسے ہی وہ مسئلہ حل ہوا تو اب سندھ کی سیاست میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔

صوبہ سندھ میں خود کو شہری علاقوں کی نمائندہ سمجھنے والی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان جو اپنے بانی سے علیحدگی کے بعد شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی، آخر کار کسی حد تک سمٹ گئی ہے اور ’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ کے مصداق اس کے دھڑوں نے آپس میں انضمام کرلیا ہے۔

پی ایس پی سمیت ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو متحد کرنے پر اتفاق - اسلام ٹائمز

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا متحدہ قومی موومنٹ کے متحد ہونے سے بلدیاتی الیکشن میں کوئی سرپرائز ملے گا؟ یا جماعت اسلامی تمام جماعتوں کو حیران کردے گی، فیصلہ کل یعنی 15 جنوری کو ہوجائے گا۔

تمام قیاس آرائیاں اور گیڈر بھپکیاں دم توڑ گئیں، الیکشن کمیشن کے دوٹوک اعلان نے کراچی اور حیدرآباد کو انتہائی اہم بنادیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی پیپلزپارٹی سمیت کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے والے تمام امیدواروں نے کمرکس لی ہے اور انتخاب کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔

کراچی کی موجودہ صورت حال پر نظر دوڑائی جائے تو گزشتہ دنوں ہونے والی متحدہ کے تین دھڑوں کی مشترکہ پریس کانفرنس یقیناً ایک اچھا عمل تھا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایم کیو ایم کے یہ دھڑے (مائنس الطاف) کرکے الیکشن میں اپنے مطلوبہ مقاصد حاصل کرپائیں گے؟

ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو ستر اسی کی دہائی میں کراچی میں جماعت اسلامی کا اثرورسوخ تھا مگر ایم کیو ایم کے قیام سے جماعت اسلامی کا ووٹ بینک بری طرح تقسیم ہوا۔

حافظ نعیم کا ایم کیو ایم کی بلدیاتی انتخابات پر دھمکی کا نوٹس لینے کا مطالبہ - ایکسپریس اردو

مگرجماعت اسلامی مستقل مزاجی اور اپنے نظریہ پر کاربند رہتے ہوئے کراچی کی بلدیاتی الیکشن میں بھرپور حصہ لیتی رہی، اسی جماعت اسلامی نے شہرقائد کو عبدالستار افغانی، نعمت اللہ خان جیسے میئر دئیے، جنہوں نے اپنے دور نظامت میں کراچی کے کئی میگا پروجیکٹ کو مکمل کیا۔

ادھر ایم کیو ایم کے دھڑوں کے انضمام کے بعد ایک بار پھر مہاجر کارڈ کھیلنے کی تیاری کی جارہی ہے مگر اس بار متحدہ کو جماعت اسلامی کے ساتھ ساتھ پاکستان تحریک انصاف سے مقابلے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں احتجاج کا مقام تبدیل کردیا - Pakistan - AAJ

اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں متحدہ قومی موومنٹ اپنے ماضی کی طرح اپنی ساکھ دوبارہ قائم کرسکے گی یا نہیں ؟ یا پھر اس کے سابق ووٹرز جماعت اسلامی، پی ٹی آئی یا تحریک لبیک سے واپسی کے فیصلے پر نظر ثانی کریں گے؟۔

(تحریر : اعجازالامین)

اعجاز الامین قریشی پیشے کے اعتبار سے ایک صحافی ہیں اور ان دنوں ایک معروف ادارے میں بحیثیت ویب ایڈیٹر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس سے قبل وہ اخبارات سے بھی وابستہ رہے ہیں۔

نوٹ : 
مندرجہ بالا تحریر / مضمون نگار کے خیالات اور اس کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، اس مضمون سے اے آر وائی نیوز کی انتظامیہ اور ادارتی پالیسی کا متّفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Comments

- Advertisement -