The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کے تاریخی شہر العلاء کے خوبصورت مناظر

ریاض : سعودی عرب کے تاریخی تہذیب کے قدیم دارالحکومت العلا میں 41 ویں خلیج تعاون کونسل کا اہم اجلاس آج ہوگا جس میں عرب ممالک کے سربراہان مملکت شرکت کریں گے۔

اس اہم اجلاس میں خطے کی صورتحال کے علاوہ خلیجی ممالک کے درمیان تعلقات اور کورونا وائرس سے تبدیل ہوتی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔

العلاء شہر ماضی بعید میں قوم ثمود کا مسکن ہوا کرتا تھا جہاں اس کے آثار آج بھی نمایاں ہیں، یہاں ایک خوبصورت ایمپوریم تعمیر کیا گیا ہے جس میں آج کے اجلاس کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کا یہ غیر معمولی نوعیت کا اجلاس ہے جس میں خطے کی صورت اور اس کی ترقی و خوشحالی کے علاوہ دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے اور کورونا وائرس کے بعد تبدیل ہوتے حالات کا جائزہ لےکر ان کا سدباب کرنا ہے۔

اس اہم اجلاس کی خاص بات 2017 کے بعد قطر اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بحالی ہے جس سے جی سی سی ممالک کے درمیان ایک مرتبہ پھر سے مثبت نتائج سامنے آنے سے خطے کے مسائل کو باخوبی احسن انداز سے حل کیا جاسکے گا۔

وادی العلا میں سربراہ کانفرنس المرایا کنسرٹ ہال میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ ہال ساڑھے 9 ہزار مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے اور آئینے سے ڈھکا ہوا ہے اسی وجہ سے اس کا نام المرایا ہے۔ عمارت کے گرد جڑے یہ آئینے حیرت انگیز مناظر کا عکس دکھائی دیتے ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق العلا کو ہزاروں برس کے دوران یکے بعد دیگرے آنے والی تہذیبوں نے تعمیر کیا تھا اور اسے تین براعظموں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافتی تبادلے کا مقام سمجھا جاتا ہے۔

العلا کا پرانا قصبہ مملکت کے شمال میں مدائن صالح نامی تاریخی جگہ سے تقریباً 20 کلومیٹر دور واقع ہے۔ سات صدی قدیم یہ مقام مساجد و بازاروں سے بھرا ہوا ہے جو اس کی تاریخی حیثیت اور خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے۔

تاریخی آثار سے بھرپور علاقہ اہم تجارتی مرکز رہا ہے جو شمال اور جنوب کو ملانے کے ساتھ ساتھ شام اور مکہ کے درمیان سفر کرتے زائرین کا اہم ٹھکانہ بھی ہوتا تھا۔

العلا نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی غیر معمولی دلچسپی کا حامل ہے۔ یہاں قدیم تہذیب و ثقافت کے آثار آج بھی موجود ہیں جنہیں لوگ دلچسپی سے دیکھنے آتے ہیں۔

سعودی ایئرلائنز کی ریاض، جدہ اور دمام سے العلا کے لیے پروازیں دستیاب ہیں۔ العلا ریاض سے دس گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے، جدہ سے سات گھنٹے اور مدینہ اور تبوک کے ہوائی اڈوں سے صرف تین گھنٹے کی دوری پر ہے۔

اس علاقے میں ’الطنطورہ‘ کا میلہ بھی منعقد کیا جاتا ہے۔ چند ہفتے قبل دسمبر میں العلا کمشنری کے ایئر پورٹ کی توسیع کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوا ہے۔ العلا رائل کمیشن کے مطابق ہوائی اڈے کی توسیع سے قبل یہاں سالانہ مسافروں کی گنجائش ایک لاکھ تھی جو اب بڑھ کر 4 لاکھ ہو جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں