The news is by your side.

Advertisement

ممبئی حملہ بھارتی حکومت کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جرمن صحافی کا انکشاف

نئی دہلی: جرمنی کے یہودی صحافی نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے شہر ممبئی میں حملے بھارتی حکومت کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کے یہودی صحافی ’ایلس ڈیوڈسن‘ نے بھارتی پبلشر فروز میڈیا نیو دہلی سے شائع ہونے والی اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ ممبئی حملے بھارت، اسرائیل اور امریکا کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ تھے جس میں بھارت کا خود کلیدی کردار ہے۔

جرمن صحافی ایلس ڈیوڈسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ممبئی حملوں سے متعلق بھارتی سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کی جانب سے بتائے گئے حقائق درست نہیں تھے اور ممبئی حملہ کیس کی عدالتی کارروائی میں اہم شواہد کو بھی نظر انداز کیا گیا۔


ممبئی حملہ کیس: سیکریٹری خارجہ اور ترجمان دفتر خارجہ عدالت میں پیش


انہوں نے لکھا کہ ممبئی کیس سے متعلق عدالتی کارروائیوں کے دوران 26 نومبر کے ثبوتوں پر نظرثانی میں انکشاف کیا گیا کہ ممبئی حملوں کی سازش میں بھارت کے ساتھ اسرائیل اور امریکا کا بھی کردار تھا لیکن ممبئی حملہ کیس پر بھارتی سیکیورٹی اور خفیہ اداروں کی جانب سے بتائے گئے حقائق درست نہیں تھے، منصوبہ بندی کے تحت حقائق مسخ کیے گئے۔

جرمن صحافی نے یہ بھی لکھا کہ ممبئی حملہ کیس کی عدالتی کارروائی کے دوران اہم شواہد اور گواہوں کو نظر انداز کیا گیا، حملے کی منصوبہ سازی، ہدایات اور عمل درآمد میں تینوں ملک ملوث رہے، ممبئی حملوں کا مرکزی فائدہ ہندو انتہا پسندوں نے اٹھایا، ان حملوں کے نتیجے میں کئی پولیس افسران کو بھی راستے سے ہٹا دیا گیا تھا۔


ممبئی حملہ کیس، مودی حکومت راہ فرار اختیار کرنے لگی


یاد رہے کہ بھارتی شہر ممبئی میں 2008 میں حملے کیے گئے تھے جس میں حملہ آوروں سمیت 166 افراد مارے گئے تھے، بعد ازاں بھارت نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے متعدد بار ان حملوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں