The news is by your side.

Advertisement

متنازعہ تقریر رکوانے کے لیے واسع جلیل کو چار بار فون کیے، عامر خان

کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر ڈپٹی کنوینئر عامر خان نے کہا ہے کہ بانی متحدہ کی 22 اگست کی متنازعہ تقریر کےدوران واسع جلیل کو تقریر رکوانے کے لیئے 4 بار فون کیے لیکن ان کاجواب تھا کہ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں آپ سنبھال سکتے ہیں تو سنبھال لیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کے سوالوں کے جوابات دے رہے تھے انہوں نے کہا کہ 22 اگست کی متنازعہ تقریر کے دوران لندن کے افتخار احمد سے بھی بات کی اور پوچھا کہ آخر یہ کیا ہورہا ہے لیکن وہاں سے بھی کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔

عامر خان نے کہا کہ بانی ایم کیوایم کی متنازعہ تقریر پر ہم سب اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے جب کہ اسی اشتعال انگیز تقریر کے بعد ہی اے آر وائی کے دفتر پر حملہ ہوا اور جو کچھ ہوا سب نے دیکھا تاہم تقریر کے فوری بعد مجھے رینجرز نے بلوا لیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے کہا کہ میں خود چاہتا ہوں کہ بابرغوری مجھےلیگل نوٹس بھیجیں لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی قانونی چارہ جوئی نہیں کی ہے کیوں کہ شاید لیگل نوٹس کی وجہ سے بابرغوری کو پاکستان آنا پڑ جائے۔


عامر خان نے کہا کہ لندن والوں کے پاس ہمیشہ الزامات کی فہرست تیار رہتی ہے اگر میں نے لندن والوں کےخلاف سچ بات کہہ دی ہے تو اس میں کیا غلط ہے بلکہ ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی یہی کچھ کہا تھا اور لندن والوں سے ہمدردی رکھنےوالے بھی یہ سچ جانتے ہیں۔

سینیئر ڈپٹی کنوینیئر عامر خان نے کہا کہ لندن کے رہنما واسع جلیل کے لیے حال ہی میں گلستان جوہر میں کروڑوں روپ کی مالیت کا پلاٹ خریدا گیا ہے جب کہ بابرغوری کے ہیوسٹن میں پیٹرول پمپ ہیں اور امریکا میں فوڈریسٹورنٹ چین کس کےنام ہیں اور نارتھ ناظم آبادمیں کس کے پاس کیا کیا ہے میں سب بتاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ جو بھی پاکستان کی ریاست کے خلاف بات کرے گا اور ملکی وحدت کے خلاف نعرے بازی کرے گا اسے کسی طور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور اگر لندن والوں کو سیاست کی اجازت ملتی ہے تو اس کا سوال پھر ریاست سے کرنا چاہیئے مجھے سے نہیں۔

سیاسی اتحاد کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ لندن والوں سے مفاہمت کے راستے بند ہوچکے ہیں اور پی ایس پی سے اتحاد کا کوئی معاملہ زیرغور نہیں تاہم سیاست میں ہر چیز ممکن ہوتی ہے لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اپنی سابقہ تمام نشستیں حاصل کر لیں گے۔

پاک سرزمین پارٹی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر ایک کو اپنی رائے دینا کا اور سیاست کرنے کا حق حاصل ہے لیکن مصطفٰی کمال کی سیاسی حقیقت کافیصلہ الیکشن میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان نے جرائم پیشہ افراد کو پارٹی سے نکال باہر کیا ہے کیوں کہ ہمارے یہاں جرائم اور کرپشن کے لیے زیرو ٹالیرنس ہے اور اس پالیسی پر سختی سے کاربند رہیں گے رہی بات یہ کہ ہم نے جن جرائم پیشہ افراد کو پارٹی سے نکالا وہ اب کہاں ہیں تو اس کا مجھے کوئی علم نہیں ہے۔

ایم کیو ایم حقیقی سے بانی ایم کیو ایم کے ساتھ دوبارہ سیاسی سفر کے آغاز پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں عامر خان نے کہا کہ مہاجر قوم کی بھلائی اور نوجوانوں کے محفوظ مستقبل کے لیے یہ فیصلہ کیا تھا کیوں کہ اس دور میں اختلافات اور غلط فہمیوں کے باعث مہاجر نوجوانوں کا خون بہا تھا۔

دوران پروگرام میزبان وسیم بادامی نے 22 اگست کو بانی ایم کیو ایم کی تقریر کے دوران عامر خان کی بانی ایم کیو ایم سے متنازعہ اور ملک مخالف بات چیت بھی سنوائی گئی جس پر عامر خان کا کہنا تھا کہ میری گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا میں نے کارکنان کی ماورائے عدالت قتل پر مایوسی کا ضرور اظہار کیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں