site
stats
کھیل

آمدنی رک جائے تو لوگوں کے اصل چہرے سامنے آجاتے ہیں: باکسر عامر خان

لندن: ذرائع آمدنی رک جائیں تو لوگوں کے اصل چہرے سامنے آجاتے ہیں، ان خیالات کا اظہار برطانوی نژاد پاکستانی باکسر عامر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

باکسر عامر خان کا کہنا ہے کہ جب الوریز نے شکست سے دوچار کیا تب ان کے دماغ میں ان کی فیملی کے درمیان چلنے والے تنازعات گردش کرتے نظر آرہے تھے،

عامر خان کے مطابق ان کے قریبی دوست ساج محمد اور ان کے انکل تاز اوران کے والد ہمیشہ ان کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرتے ہیں۔ فائٹ سے  قبلہمیشہ ان سے مقابلے کے حوالے سے باتیں شیئر کرتے ہیں۔


جھگڑاختم کریں ایسانہ ہو والدین بیٹا اور اہلیہ شوہر کھو دے، باکسر عامرخان


عامر خان نے زندگی کے تیس سالہ دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گزشتہ تیس سالہ دور بہت بہترین تھا جس میں ان کو ایک اچھی ٹیم کا ساتھ حاصل تھا، جیسے ہی اکتیس ویں سال میں قدم رکھا تو سب کچھ بدل گیا۔ پھرمیں نے سوچا کہ نہیں مجھے سب کو غلط ثابت کرنا ہے میں نے ماضی میں بہت اچھے سال گزارے ہیں، میرا گزرا دور پھر واپس آئے گا، میں آگے کی طرف دیکھ رہا ہوں اور سب کو غلط ثابت کردوں گا۔


عامر خان، فریال کو طلاق دے کر ہی رہے گا، باکسر عامر خان کے والد


عامر نے کہا کہ اگر انہیں زیادہ پیسے کمانے ہیں تو آئندہ رنگ میں اترنے سے قبل وہ اپنے ذہن میں کوئی منفی پہلو نہیں رکھنا چاہیں گے۔ باکسر نے مزید کہا کہ آپ کے آس پاس کے لوگ جنہیں آپ بہت اچھا سمجھتے ہیں درحقیقت ایسا ہوتا نہیں ہے وہ اچھے وقت میں ساتھ ہوتے ہیں اور برے وقت میں آپ کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

عامر خان نے ماضی کے تلخ تجربات کو بھلا کر آئندہ چند ماہ میں ہونے والی اپنی فائٹ پر توجہ مرکوز کررکھی ہے تاکہ وہ رنگ میں اترحریف کو چاروں شانے چت کرسکیں۔


عامر کے اہل خانہ مجھے مائیکل جیکسن کہتے تھے، اہلیہ


عامر نے فیملی کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک اچھا بیٹا اوربھائی ہوں اور میں ان سے بھی بہتری کی امید کرتا ہوں۔ میں اپنی فیملی کے لیے کسی بھی حد تک جاسکتا ہوں۔

واضح رہے کہ باکسرعامر خان کی اہلیہ اوران کے گھر والوں کے درمیان کافی دنوں سے کشیدہ تعلقات چل رہے تھے جس سے تنگ آکر عامر خان نے دونوں فریقین کو میڈیا کے ذریعے بھی سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top