The news is by your side.

Advertisement

عامر لیاقت تحریک انصاف میں شامل نہ ہوسکے

کراچی : پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ مشہور ٹی وی اینکر عامر لیاقت حسین کی تحریکِ انصاف میں شمولیت کے معاملے پر مشاورت جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق عامر لیاقت تحریک انصاف میں شامل نہ ہوسکے ، پی ٹی آئی کے رہنما عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ عامرلیاقت کی پی ٹی آئی میں شمولیت میں وقت لگے گا، مشاورت جاری ہے، ڈاکٹر صاحب اپنےساتھیوں سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونا چاہتے ہیں، پی ٹی آٗئی میں اور اہم شخصیات شامل ہوں گی، کون کون شامل ہورہاہےسب کومعلوم ہوجائےگا۔

یاد رہے گذشتہ روز سیاست کو خیر باد کہنے والے عامر لیاقت نے پھر سیاست میں آنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس کا باضابطہ اعلان آج پریس کانفرنس کے ذریعے کرنا تھا۔


مزید پڑھیں :  عامر لیاقت حسین کا تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ


عمران اسماعیل نے اے آروائی نیوز سے گفتگو میں سابق متحدہ رہنما کی پی ٹی آئی میں شمولیت کی تصدیق کی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عامرلیاقت کی شمولیت پر پی ٹی آئی کے چند لوگوں کو تحفظات ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی کپتان کی ٹیم کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

خیال رہے کہ عامر لیاقت حسین نے اپنا سیاسی کیریئر متحدہ قومی موومنٹ کے پلیٹ فارم سے شروع کیا اور وہ مشرف دورِ حکومت میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امورکے امور سرانجام دے چکے ہیں۔

گزشتہ برس 22 اگست سے قبل عامر لیاقت نے متحدہ میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا تھااورملک مخالف نعروں کے اگلے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں انہوں نے فاروق ستار اور ایم کیو ایم پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔


مزید پڑھیں: مجھے قتل کیا گیا تو ذمہ دار الطاف حسین ہوں گے،عامر لیاقت


تاہم ڈاکٹر عامر لیاقت نے دو روز بعد اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں سیاست چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک سیاسی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کررکھی تھی۔

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے بوری بنانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں‘ اگر مجھے قتل کردیا گیا تو ذمہ دار ایم کیو ایم کی لندن قیادت اور بانی متحدہ ہوں گے، مار دیا جاؤں تو قومی پرچم میں لپیٹ کر تدفین کی جائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں