اماں نامہ - مزاح نگاری میں تازہ ہوا کا جھونکا -
The news is by your side.

Advertisement

اماں نامہ – مزاح نگاری میں تازہ ہوا کا جھونکا

زبان کوئی بھی مزاح نگاری یقیناً ایک دشوار گزار مرحلہ ہے جس کے سبب بہت سے بہترین ادیب بھی اس رستے سے کنی کتر ا کر گزرجاتے ہیں، اردو ادب کی تاریخ میں مزاح نگار انگلیوں پرگنے جاسکتے ہیں اور اب یقیناً اس میں ایک نئے نام کا اضافہ ہوچکا ہے۔

افسانوں کی دنیا میں زورِ قلم آزمانے والی نشاط یاسمین خان نے اپنی زندگی کو موضوعِ گفتگو بناتے ہوئے ’’اماں نامہ‘‘ کے نام سے اپنے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ترتیب دیا ہے جسے بلاشبہ مزاح نگاری کےمیدان میں تازہ ہوا کا جھونکا تصور کیا جاسکتا ہے۔ نشاط کے اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف ظرافت اور بھونڈے پن کے درمیان موجود بال برابر فرق کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور اسی فرق کو ملحوظ ِ خاطر رکھتے ہوئے جس طرح انہوں نے معاشرے کے کئی بوسیدہ رویوں کو انوکھے انداز میں برتا ہے وہ خاصے کی چیز ہے۔

مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ’ رنگِ ادب پبلیکشنز نے کراچی سے شائع کی ہے۔ کل صفحات کی تعداد 128 ہے،طباعت نسبتاً بہترکاغذ پر کی گئی ہےاوراس کی قیمت 300 روپے مقرر کی گئی ہے۔

اماں نامہ – کتاب پر ایک نظر


کتاب کے پیش لفظ میں نشاط خان ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ کتاب اور اس موجود مضامین در اصل ان کی آپ بیتی ہیں لیکن وہ اس میں محض راوی کے طور پر موجود ہیں اور جب آپ کتاب پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی ایسا ہی ہے ، ’اماں ‘ آپ کو ہر میدان میں غالب نظر آئیں گی۔

اس خود نوشت میں مصنف معاشرے کے کچھ ایسے رویوں کو لطیف تنقید کا نشانہ بناتی ہیں جن کے بارے میں عموماً پورے معاشرے کو ہی یقین ہے کہ یہ رویے کسی بھی صورت درست نہیں ، اس کے باوجود وہ رویے عام ہیں اور کوئی بھی انہیں ترک کرنے کو تیار نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نشاط نے ان رویوں پر اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا بلکہ ان کے مثبت اور منفی پہلو کھول کر سامنے رکھ دیے ہیں جس کے بعد قاری باآسانی فیصلہ کرسکتا ہے کہ کون سا رویہ درست ہے اور کون سا غلط۔ مثال کے طور پرگھروں میں والدین کی جانب سے بچوں میں کی جانے والی تفریق ہو، شادیوں کے موقع پر رشتے ڈھونڈنے کا چلن ہو یا شادی کے بعد نئی رشتے داری کو نبھانے کا معاملہ ہو، اس کتاب کی بدولت ہم اپنے گریبان میں جھانک پاتے ہیں کہ ہم نے اپنے ارد گرد کیسے کیسے رویوں کو فروغ دے رکھا ہے اور ان پر نازاں بھی ہیں۔

ایک مقام پر اماں مصنف کے والد سے فرماتی ہیں کہ ’’دیکھ لیجیے گا کہ ایسا بر ملے گا کہ سارا خاندان رشک کرے گا۔ آپ تو اپنی والی کی فکر کریں ،’’انہیں تو کوئی عقل کا اندھاگانٹھ کا پورا‘‘ مل جائے تو بہت ہے۔ ہمیں تو ابھی سے اس کی فکر ستائے جارہی ہے‘‘۔

اب اس ایک جملے میں دیکھیں کس طرح مصنف نے والدین کے درمیان بچوں کی تقسیم بھی اجاگر کی ہے اور ساتھ ہی شادی بیاہ کو لے کر ہمارے معاشرتی رویوں کو بھی بیان کیا ہے کہ ہم اسے دو انسانوں کے بندھن کے بجائے سماج میں نمود و نمائش کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

اماں، جس طرح جنگل میں دو شیر نہیں رہ سکتے اور ایک ڈربے میں دو مرغے، اسی طرح ایک گھر میں دو داماد نہیں رہ سکتے۔ اس طرح ایک طرف تو اقتدار کی جنگ شروع ہوجائے گیاور دوسری طرف آپ محلاتی سازشوں کا شکار اور ہم بھی تو اقوامِ عالم میں سراٹھا کرجینا چاہتے ہیں

یہ کتاب آگے چل کر خاندانی تعلقات سے ایک قدم آگے بڑھتی ہے اور سماجی تعلقات کو بھی موضوع گفتگو بناتی ہے اور اس میں سب سے اہم کردار میاں عبدالقدوس کا ہے ، مصنف کہتی ہیں کہ ’’بے چارہ عبدالقدوس ‘‘ بری کے سامان کے ساتھ مفت میں پڑتا ہے ۔ لیکن یہی مفت کا’عبدالقدوس ‘ زندگیوں میں کس طرح کا کردار ادا کرتا ہے وہ آپ کتاب پڑھ کر ہی جان پائیں گے۔

اسی آپ بیتی بیتی میں ایک کردار بڑے میاں کا بھی ہے ، یہ ایک مختصر کردار ہے لیکن ہمیں بتاتا ہے کہ معاشرے میں پرانے ملازمین کس مالکان کے معاملات میں کس حد تک دخیل ہوتے ہیں اور مالکان بھی پرانے ملازمین کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھتے ہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ سارے معاملات اس کتاب میں اس قدر دلچسپ اندا ز میں بیان کیے گئے ہیں کہ پڑھنے والا موضوع کے سحر میں کھو سا جاتا ہے اور ایک مرتبہ کتاب اٹھانے کے بعد اسے مکمل کیے بغیر رہنا ناممکن ہے۔ کتاب کے کچھ کمزور مقامات کے بارے میں مصنف نے پہلے ہی نشاندہی کی ہے یہ کتاب ’’الل ٹپ‘ انداز میں سودا سلف لانے والی کاپی پر لکھی گئی ہے جس کی وجہ سے رعایت دینا ضروری ہے۔

 

 

مصنف کے بارے میں


نشاط یاسمین خان کی یہ چوتھی مطبوعہ کتاب ہے اور اس سے قبل وہ ایک ناول ’تیسرا کنارہ) ( 2007) میں، دوریاں اور قربتیں (افسانوی مجموعہ) اور سرخ لکیریں ( افسانوی مجموعہ) تحریر کرچکی ہیں۔

ان کی زیرِ طباعت کتب میں ابا نامہ ، م سے مرد ، رود کوہی اور سو لفظوں کی کہانیاں شامل ہیں، جو عنقریب ہی ان کے قارئین کو میسر ہوں گی۔

انہوں نے جامعہ کراچی سے اپنی تعلیم حاصل کی ہے اور بنیادی طور پر ایک گھریلو خاتون ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں کی بے ساختگی کسی سنی سنائی کی محتاج نہیں بلکہ وہ حالات واقعات کو ایسے ہی بیان کرتی چلی جاتی ہیں جیسا کہ وہ ان پر بیتے اور یہی ان کی
تحریر کا حسن بھی ہے ۔

اماں نامہ کی صورت ان کے مزاح نگاری کے جوہر کھل کر سامنے آئے ہیں اور اگر وہ ایسے ہی اس سلسلے کو آگے بڑھاتی رہیں تو وہ دن دور نہیں جب ان کا شمار صف ِ اول کے مزاح نگاروں میں ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں