The news is by your side.

Advertisement

آف شورکمپنیوں سے کمائے گئے پیسے کو قانونی کرنے کی نئی اسکیم زیر‌ِغور

اسلام آباد : حکومت آف شور کمپنیاں بنانے والوں اور ٹیکس چوروں کے لئے پیسہ ملک میں لانے کا موقع دے رہی ہیں، جس کے لئے بیرون ملک پیسہ رکھنے والوں کیلئے ایمنسٹی اسکیم لانے پر غورکررہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آف شورکمپنیوں سے کمائے پیسے کو قانونی کرنے کی نئی اسکیم زیرغورہے، زرائع کے مطابق یہ اسکیم ایسے بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے ہے ، جنہوں نے اپنے اثاثے بیرون ملک بنائے ہیں اوروہیں رکھے ہوئے ہیں۔

اس اسکیم میں سرکاری عہدے داروں کو بھی شامل کئے جانے کا امکان ہے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستانیوں نے بیرون ملک ڈیڑھ سو ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے، چالیس ارب ڈالرز رئیل اسٹیٹ میں، چالیس ارب ڈالرز بینکوں میں جبکہ ستر ارب ڈالرز دیگر اثاثوں کی مد میں موجود ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکیم کے تحت صرف دو فیصد پینلٹی کی ادائیگی پر کلین چٹ مل جائے گی اور آف شور کمپنیز مالکان کو سرمایہ پاکستان منتقل کرنے کے لیے مختلف سہولیات فراہم کی جائے گی جبکہ محض چار ارب ڈالرز واپسی کا امکان ہے۔

حکومت نے اسکیم کی تیاری کیلئے جس کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں یہ وہی فرم ہے، جوپاناما کیس میں حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کی رہنمائی کررہی ہے۔

آف شور کمپنیز کیا ہیں؟

کسی دوسرے ملک میں آف شور (بیرون ملک) بینک اکاؤنٹس اور دیگر مالی لین دین عام طور پر ٹیکسوں اور مالی جانچ پڑتال سے بچنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، کوئی بھی انفرادی شخص یا کمپنی اس مقصد کے لیے اکثر و بیشتر شیل (غیر فعال) کمپنیوں کا استعمال کرتی ہے جن کے ذریعے ملکیت اور فنڈز سے متعلق معلومات کو چھپایا جاتا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے پراپرٹی سیکٹرکیلئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائی تھی ، جس کے تحت جائیداد کی خرید و فروخت میں لگے کالے دھن کو سفید کرنے کا موقع دیا جائیگا اُور ذرائع آمدن بھی نہیں پوچھے جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں