The news is by your side.

Advertisement

تقسیم کی ادھوری کہانی – امرت کور

دادی پرونت کور نے اپنی بات ختم کی تو میرے دل میں امرت کور کے لیے نفرت ابل پڑی۔ مگر میں ایک لفظ بھی اپنی زبان پر نہ لایا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں جس پاگل عورت سے ملنے کے لیے یہاں جتھوال میں آیا تھا، اس کے دل میں اٹھنے والی ہوس کی آگ نے میرے گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ میرے ذہن میں نہ جانے کتنے سوال کانٹوں کی ماننداُگ آئے تھے جو اپنی چبھن کا احساس دیتے رہے تھے۔ میرے دل پر بھاری بوجھ آن پڑا۔
شاید میرے چہرے پر ایسا سب کچھ دکھائی دے رہا تھا کہ دادی پرونت کور بولی۔
”پتر….! ایسا قسمت میں تھا۔ جو ہونا تھا، وہ ہو گیا، اب تو نئی نسل کو سوچنا چاہئے کہ انہیں کس طرح امن، محبت اور دوستی کے ساتھ رہنا ہے، اسی میں بھلائی ہے“۔
وہ پتہ نہیں کس رو میں یہ کہہ گئیں تھیں لیکن میں اپنی ہی ذات میں شرمندہ ہو رہا تھا۔ کاش مجھے یہ سب معلوم نہ ہوتا اب مجھے پتہ چل گیا تھا تو میں اپنے جذبات کو کس طرح قابو میں رکھ سکتا تھا۔ یہ ایک فطری امر تھا۔ دکھ اور غم کی اپنی تکلیف تو ہوتی ہے جو اس وقت میں محسوس کر رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اس وقت ان کے پاس سے اٹھ جاؤں، اس لیے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔
”آپ کی شادی پھر اس گاؤں میں ہو گئی؟“
”ہاں….! میری منگنی تو بہت پہلے کی ہو گئی ہوئی تھی۔ بس پھر گاؤں سے خوف کی فضا جیسے ہی دور ہوئی میری شادی ہو گئی، بچے ہو گئے، ان کی مصروفیت میں لگ گئی۔ کبھی کبھی جب میں امرت کور کو دیکھتی ہوں تو مجھے نور محمد یاد آجاتاہے۔ وہ بالکل تیرے جیسا ہی تھا، جب میں نے اسے آخری بار دیکھا تھا۔ تجھے دیکھ کر میں اس لیے ایک دم سے پاگل ہو گئی کہ یہ نور محمد کدھر سے آگیا۔ تُو ہو بہو اس کے جیسا ہے۔ بس یہ تیرے چہرے پر تل نہیں ہے“۔ وہ گھوم پھر کر وہیں آگئیں تو مجھے الجھن ہونے لگی۔ تب میں نے اٹھتے ہوئے کہا۔
”دادی….! میرے خیال میں رات بہت گہری ہو گئی ہے۔ باقی باتیں کل کریں گے، آپ آرام کریں“۔
”اب کہاں آرام میرا پتر….! ساری رات انہی یادوں میں گزر جائے گی۔ خیر تُو جا اور آرام کر….“ انہوں نے خود کو بیڈ پر سیدھے کرتے ہوئے کہا تو میں ان کے کمرے سے نکلتا چلا گیا۔


اس ناول کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


میں کمرے میں آیا تو بھان سنگھ سو چکا تھا۔ میں ایزی ہو کر لیٹ گیا لیکن میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ میرے دماغ میں سوالوں کی چبھن بڑھ چکی تھی اور اس کے ساتھ ایک شرمندگی کا احساس میرے ساتھ لپٹ گیا تھا کہ میں کس مقصد کے لیے یہاں آیا ہوں۔ یہی وہ لمحات تھے جب امرت کور کے لفظ مجھے سمجھ آنے لگے۔ وہی لفظ جو بے ساختہ اس کے منہ سے مجھے دیکھتے ہی نکلے تھے۔ گرنتھ صاحب سے جو اس نے گرودوارے میں پڑھا تھا وہ بھی مجھے سمجھ آنے لگا تھا۔ دادی پرونت کور نے مجھے وہ ساری باتیں بتا دی تھیں جو اسے معلوم تھیں اور اس کے سامنے ہوئیں تھیں، لیکن کیا امرت کور بھی مجھے ایسا ہی کچھ بتائے گی؟ بلاشبہ وہ ضرور بتائے گی، لیکن وہ پورا سچ نہیں ہوگا۔ وہ بہت ساری باتیں چھپا لے گی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ بالکل آخری دنوں میں رگھبیر سنگھ اس کے خیالوں پر چھا گیا تھا۔ بدن کی پکار پر لبیک کہنے والوں کا یہی حال ہوتا ہے۔ ہوس کے مارے جب ایک جگہ سے مایوس ہو جاتے ہیں تو پھر جہاں سے ان کی ہوس پوری ہو ان کی توجہ ادھر ہو جاتی ہے۔ دادا نور محمد نے اگر رگھبیر سنگھ کو قتل کیا تھا تو بہت اچھا کیا تھا۔ وہی ایک شیطان تھا جس نے گاؤں کی پُرامن فضا میں آ کر مذہبی تعصب کا زہر گھول دیا تھا۔ بعض ایسے پڑھے لکھے جاہل ہو تے ہیں جو صرف اپنی انا کی خاطر کشت و خون کرنے سے بھی بازنہیں آتے۔ یہی شدت پسندی ہے کہ اپنے خیالات کو دلائل سے نہیں، زوربازو سے منوانے کی گھٹیا ترین کوشش کرنا، رگھبیر سنگھ تو ویسے بھی اس سیاسی دھوکے میں آگیا تھا جو ہندوؤں نے ماسٹر تارا سنگھ کو دکھایا تھا۔ اس نے جو پنجاب اسمبلی کے سامنے تلوار لہرائی تھی، اس کا نتیجہ یہی ہوا کہ پنجاب کی دھرتی لہو رنگ ہو کر کر دو لخت ہو گئی۔ دلائل کی میز پر بیٹھ کر اگر سکھوں کے لیڈر ماسٹر تارا سنگھ کے سیاسی عزائم اور سیاسی بانع نظری کا تجزیہ کیا جائے تو سکھوں کو پچھتاوں کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔ پنجاب کی دھرتی پر رہنے والے ہر مذہب کے انسان کو یہ سوچنا فرض جیسی حیثیت رکھتا ہے کہ کون کس کے دھوکے میں آیا؟ پچھتاوے کس کا مقدر ہیں۔ جن کی شہ پر ماسٹر تارا سنگھ نے پنجاب اسمبلی کے باہر تلوار لہرائی تھی، انہوں نے ہی آپریشن بلیو سٹار کے ذریعے امرتسر میں گرودوارے کی بے حرمتی کی۔ دہلی میں مٹی کاتیل چھڑک کر زندہ سکھ کو جلا دیا گیا۔ کیا یہی تھی ماسٹر تارا سنگھ کی بانع نظر ی جس کا خمیازہ آج تک سکھ قوم بھگت رہی ہے اور پھر مجھے ہوش ہی نہ رہا کہ میں کب نیند کی وادی میں کھو گیا۔
اگلی صبح جب میں فریش ہوا تو دن خاصا چڑھ گیا تھا۔ بھان سنگھ کمرے میں نہیں تھا، ممکن ہے میں رات بہت دیر سے سویا تھا، اس لیے آنکھ دیر سے کھلی تھی۔ اس وقت بھی آئینے کے سامنے اپنے بال سنوار رہا تھا جب پریت کور کمرے میں آگئی۔ میرے طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔
”بلال تمہاری کنگھی پٹی ختم نہیں ہوئی ابھی تک“۔
”ہو گئی بابا، بولو تمہارا نزول کیسے ہوا اس کمرے میں اور بھان سنگھ کہاں ہے؟“ میں نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
”تمہیں بلانے آئی ہوں۔ سب تمہارانیچے انتظار کررہے ہیں“۔ اس نے کہا اور فوراً ہی پلٹ گئی۔ میں بھی اس کے پیچھے چل دیا۔
میں نے سیڑھیوں ہی میں دیکھ لیا کہ سبھی دالان میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان سریندر پال سنگھ بھی موجود تھا۔ وہ سب ہنستے مسکراتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے قریب جاکر دادی پرونت کور کی طرف دیکھا جو بڑی محبت اور یاسیت کی ملی جلی کیفیت میں مجھے دیکھ رہی تھی۔ تبھی امریک سنگھ نے کہا۔
”اوئے آبھئی آ بلال….! دیکھ سریندر جی آئے ہیں تجھے اپنا مہمان بنانے کے لیے ….“
”جی مہربانی ہے ان کی “۔ میں نے کہا اور ایک خالی کرسی دیکھ کر اس پر بیٹھنے لگا تو سریندر سنگھ اٹھتے ہوئے بولا۔
”او نہ بھئی نہ …. بیٹھنا نہیں، بس چلیں، پہلے ہی بہت دیر ہو گئی ہے“۔
یہ سنتے ہی میں جہاں تھا وہیں رک گیا، بھان سنگھ اٹھا توپریت کور بھی اٹھ گئی۔ میں نے دادی پرونت کور کی طرف دیکھ تو انہوں نے اشارے سے جانے کی اجازت دے دی۔ پھر جب ہم حویلی سے نکلے تو سریندر سنگھ ہمارے آگے آگے تھا اور ہم اس کے پیچھے پیدل ہی چلتے چلے گئے تھے۔
ان کی حویلی بھی خاصی پرانی، پڑی اور شاندار تھی۔ گرو دوارے کی مانند اس پر بھی پیلی مٹی کی سفیدی تھی۔ بڑے سے لکڑی کے پھاٹک پر محراب بنی ہوئی تھی۔ جیسے ہی ہم پھاٹک پا ر کر کے اندر آئے تو درمیان میں بڑا سارا صحن تھا اور اس کے آگے دالان پھر آگے کمرے بنے ہوئے تھے۔ اس دالان میں، امرت کور، ست نام کور ،گنت کور تینوں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کے ساتھ کچھ دو چار دوسری خواتین بھی تھیں، جنہیں میں نہیں جانتا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی وہ سب اٹھ گئیں۔ امرت کور پر نگاہ پڑتے ہی میرے اندر متضاد طرح کے جذبات ابھرنے لگے۔ دادی پرونت کور کی سنائی ہوی کہانی اور پھر میری اپنی سوچیں یوں گڈمدہوئیں کہ اچانک ہی میرا دل ڈوب گیا۔ مجھے وہاں کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ میں وہاں سے واپس پلٹ جاؤں۔ امرت کو راپنی گہری نیلی آنکھیوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ساری دنیا کی نگاہوں کا مرکز میں ہی ہوں۔ اس کا سفید سیندور ملا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ اگرچہ میرے جذبات اس وقت کچھ اور تھے لیکن اس وقت وہ ہلکے کاسنی رنگ کے شلور قمیص میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ اتنی عمر کی ہے۔ جیسے ہی ہم دالان تک پہنچے وہ آگے بڑھ چکی تھیں۔ سبھی کے ہاتھ میں برتن تھے، جن میں مختلف چیزیں تھیں۔ ست نام کورنے ہمارے دائیں بائیں ستونوں کی جڑ میں تیل گرایا، گنت کور نے ہمارے اوپر پھول کی پتیاں، چاول اور پھر پتہ نہیں اور کیا تھا، وہ وارے، امرت کور ان سے ایک قدم پیچھے تھی، سب نے میرے سر پر ہاتھ پھر کر پیاردیا ، لیکن امرت کورنے مجھے اپنی بانہوں میں بھر کے میرا ماتھا چوم لیا۔ اس کی گرم جوشی، شدت اور اندازِ محبت میں کچھ ایسا تھا کہ میرے دل میں اس کے بارے میں نفرت کے جذبات یوں بیٹھ گئے جیسے آگ پر پانی ڈال دیاگیا ہو۔ میں خود اپنے اندر پر حیران تھا جو پل پل بدل رہا تھا۔ ایک لمحے کو تو مجھے خیال آیا کہ کہیں میں دنیا کی ذلیل ترین محلوق تو نہیں ہوں، جنہیں منافق کہا جاتا ہے۔ میں اپنے آپ ہی میں کھویا ہوا تھا کہ ست نام کور نے کہا۔”تم لوگوں نے بڑی دیر کر دی ہے ؟ چلو سیدھے کھانے کی میز پر چلو، ناشتہ کر کے ہی باتیں کریں گے“۔
ہم سب اُدھر چل دیئے۔ ہمارے بیٹھتے ہی تازہ پراٹھے آنا شروع ہو گئے۔ گوشت کے علاوہ میز پر ہر شے موجود تھی۔ ناشتے کے دوران باتیں چلتی رہیں۔ پورا پریوار خوش تھا۔ اس دوران امرت کور بڑے سکون سے بیٹھی رہی، اس نے ایک لفظ تک نہیں کہا۔ بس مختلف چیزیں اٹھا اٹھا کر میرے سامنے رکھتی رہی اور میں چکھتارہا۔ ناشتے کے بعد ایک سجے ہوئے ڈرائنگ روم میں آبیٹھے جہاں ایک دیوار گیر تصویر امرتسر گرودوارے کی لگی ہوئی تھی۔ وہاں بیٹھتے ہی مختلف باتیں چھڑ گئیں۔ میرے اور میرے خاندان کے بارے سوال ہوتے رہے، مستقبل کی باتیں، برطاینہ کی باتیں، پھر موجود عالمی سیاست کی باتیں، تھوڑا بہت بھارت اور پاکستان کی معاشی حالت کا تجزیہ، اس دوران بھی امرت کور بالکل خاموش رہی۔ اس نے ایک سوال بھی نہیں کیا۔ بس وہ میرے چہرے ہی کی طرف دیکھتی رہی۔ یوں کافی وقت گزر گیا۔ تبھی بھان سنگھ نے مجھے ہلکے سے ٹہو کا دیا۔ میں سمجھ گیا کہ اب وہ بور ہو رہا ہے۔ میرے ذہن میں بھی کافی کچھ تھا، اس لیے میں نے اجازت طلب انداز میں سریندر پال سنگھ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”سردار جی….! اجازت، ہم چلتے ہیں“۔
”ہائیں….! یہ کیا بات ہوئی بھئی….؟ ابھی تو دوپہر کا کھانا کھائیں گے، پھر رات کو، تب کہیں تمہیں اجازت ملے گی“۔
انہوں نے حیرت سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تو بھان سنگھ جلدی سے بولا۔
”اصل میں ہم تینوں کا پروگرام تھا کہ امرتسر جا کر تھوڑی شاپنگ کر آئیں“۔
”تووہ کل ہو جائے گی، کون سا دکانیں بند ہو جانی ہیں“۔ وہ خوشگوار حیرت سے بولا تو پریت کور بولی۔
”بلال نے کل چلے جانا ہے نا۔ اس لیے“۔
”اوہ….! اتنی جلدی پتر، ابھی کچھ دن رہو ہمارے ساتھ، ابھی تو ہمارا چاؤ ہی پورا نہیں ہوا تھا“۔ ست نام کور بولی۔
”بھان….! میں نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ جب تک میں نہ کہوں، تم اسے یہاں سے جانے نہیں دو گے“۔ اچانک امرت کور نے کہا تو مجھے اس کا لہجہ عجیب پُراسرار لگا۔ جیسے اگر اس کا حکم نہ مانا گیا تو اس کی ناراضی سے کچھ بھی غضب ہو سکتا ہے۔ میرے دل میں خوف کی ایک لہر درآئی تھی کہ نہ جانے اس کے دل و دماغ میں کیا ہے، اگر میں نے دادی پرونت کور سے باتیں نہ سنی ہوتیں تو شاید میں اسے دیوانے کی بڑہی قرار دیتا اور اسے اہمیت نہ دیتا، لیکن اس کہانی کے تناظر میں اس کا یہ لہجہ اور انداز بتا رہا تھا کہ نفرت کہیں اب بھی موجود ہے۔ وہ نور محمد سے اگر رگھبیر سنگھ کا انتقام نہیں لے سکی ہے تو اب میں ہی اس کا نشانہ ہوں گا۔ اچانک ہی مجھے اپنے اردگردخطرہ منڈلاتا ہوا محسوس ہوا۔ میں بے چین ہو گیا۔ مجھے اپنے آپ پر غصہ آنے لگا کہ میں نے زویا کو حاصل کرنے کے چکر میں اپنے آپ کو کس مصیبت میں پھنسا لیا ہے۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ بھان نے دبے ہوئے انداز میں کہا۔
”میرا دل بھی چاہتا ہے کہ یہ یہاں بہت دن رہے، کیونکہ پھر قسمت ہی سے ملاقات کا امکان ہے، مجبوری یہ ہے کہ اس کا ویزہ نہیں ہے اتنے دن کا…. اسے آج کل ہی میں جانا ہے“۔
”اچھا…. !تو یہ بات ہے“۔ امرت کور نے یوں کہا جیسے وہ اس کی بات سمجھ گئی ہو۔ پھر اچانک بولی۔ ”امرتسر آج جانا ہے؟“
”جی، ابھی گھر جاتے ہی….“ بھان نے جواب دیا۔
”اور پھر اس نے کل چلے جانا ہے؟“ اس نے یوں کھوئے ہوئے انداز میں کہا جیسے اس کا دھیان کہیں اور ہو۔
”جی….“ بھان نے تیزی سے کہا۔
”تو چلو…. میں بھی تمہارے ساتھ چلتی ہوں“۔ یہ کہتے ہوئے وہ اچانک اٹھ گئی۔
”آپ….؟“ پریت کور کے منہ سے ہذیانی انداز میں نکلا تو وہ گھور کر بولی۔
”کیوں میں نہیں جا سکتی تم لوگوں کے ساتھ؟“
”کیوں نہیں…. کیوں نہیں“۔ بھان سنگھ نے تیزی سے کہا اور اٹھ گیا۔ تبھی سریندر پال سنگھ نے کہا۔
”آپ لوگ گاڑی لے آئیں۔ پھر جاتے ہوئے امرت کور کو لے جائیں۔ آؤ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں“۔
ہم وہاں سے اٹھ کر دالان میں آگئے اور پھر وہاں سے چلتے ہوئے حویلی میں آگے۔ ہم سب تیار ہی تھے۔ بھان سنگھ فوروہیل جیپ لے آیا۔ اس وقت تک سریندر سنگھ تذبذب کا شکار تھا کہ امرت کور کو ساتھ جانے دے یا نہ جانے دے۔
”اگر اس نے جانے کی خواہش کی ہے تو جانے دیں“۔ چا چی جسیمت کور نے عام سے لہجے میں کہا۔
”مجھے نہیں لگتا کہ وہ ابھی تک پوری طرح ٹھیک ہوئی ہے۔ انہوں نے تو شاپنگ کرنی ہے، وہ وہاں کیا کرے گی۔ ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہ بن جائے“۔ وہ اسی تذبذب بھرے لہجے میں بولا۔
”اگر ایسی بات ہے تو پھر رہنے دیں۔یہ چپ چاپ یہاں سے چلے جاتے ہیں“۔ امنیت کور نے پریشانی میں کہا۔
”ہاں، ایسا ہی ٹھیک ہے“۔ سریندر سنگھ نے کہا تو بھان سنگھ ڈرائیونگ سیٹ پر جا بیٹھا اور سریندر سنگھ کو اشارہ کیا ۔
”اوہ نہیں پتر….! میں چلا جاؤں گا، تم لوگ جاؤ“۔
پریت کور پچھلی نشست پر بیٹھی گئی تو میں پسنجر سیٹ پر آگیا اور پھر جیسے ہی گاڑی بڑھانے کے لیے بھان سنگھ نے گیئر لگایا۔ حویلی کے صدر دروازے پر امرت کور آتی ہوئی دکھائی دی۔ اس نے یکدم بریک لگا دیئے۔ میں نے سب کی طرف دیکھا۔ ہر ایک چہرے پر تشویش تھی۔ وہ قدم بہ قدم بڑھتی چلی آرہی تھی اور پھر آ کر جیپ کے پاس رک گئی، اس نے کسی کی طرف بھی نہیں دیکھا، ایسے میں پریت کور نے جلدی سے دروازہ کھول دیا۔ وہ چپ چاپ اس میں آن بیٹھی۔ بھان نے جیپ بڑھا دی۔ اب جو قسمت میں تھا، وہ ہو جاتا۔
سرسبز و شاداب کھیتوں میں سے ہلکی تارکول کی سڑک پر ہم آگئے۔ گاؤں پیچھے رہ گیا تھا۔ سبز رنگ کے مختلف شیڈز کی فصلیں اور سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا آسمان، چھپے ہوئے سورج کے باعث روشنی تیز نہیں تھی۔ جیپ کے اندر سناٹا تھا۔ اس سناٹے کو امرت کور کی آواز نے توڑ دیا۔
”پریت کورے….! یہ لے پکڑ روپے، جو جو شے میں تمہیں بتاؤں، وہ خرید لینا، پیسے کی پروانہ کرنا، شے اچھی ہونی چاہئے“۔
”جی، بے جی“۔ اس نے روپے پکڑتے ہوئے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔ اس کے بعد پھر خاموشی چھا گئی۔ امرتسر شہر پہنچنے تک گاہے گاہے امرت کور بولتی اور کوئی شے پریت کور کو بتا دیتی۔ ہمارے کئی پروگرام تھے۔ شاپنگ کے بعد ہوٹلنگ کرنا تھی۔ پھر میرا خیال تھا کہ میں ایک نگاہ جلیانوالہ باغ پر بھی ڈال لیتا، لیکن شاید اب ایسا ممکن نہیں تھا، امرت کور کے باعث صرف شاپنگ کر کے واپس آجانا تھا۔ جیسے ہی ہم شہر پہنچے، امرت کور نے کہا۔
”بھانے….! مجھے اور بلال کوہرمندر صاحب لے چل، پھر تُو اور پریت جب تک چاہو، شاپنگ کرتے رہنا، واپس جاتے ہوئے ہمیں لے لینا“۔
”ہرمندر….! وہاں کیوں؟“ بھان سنگھ نے دبے دبے غصے اور اکتاہٹ سے کہا۔
”وہاں جانا ضروری ہے“۔ امرت کور نے کہا اور پھر خاموش ہو گئی۔ میں بے چین ہو گیا کہ آخر وہ کرنا کیا چاہتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک خوف بھی بندھا ہوا تھا۔ نہ جانے یہ میرے ساتھ کیا کرے۔ پریت کور تو بولی ہی نہیں، بھان سنگھ نے تھوڑی بہت مزاحمت کرنے کی کوشش کی تھی مگر امرت کور کی خاموشی نے اس کی مزاحمت کو بے کار کر دیا۔ ہم مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے ہرمندر صاحب کے سامنے آپہنچے۔ وہ کافی وسیع و عریض عمارت تھی۔ بھان سنگھ نے میرے ساتھ ٹائم طے کر لیا کہ وہ اتنے بجے واپس آجائے گا۔ تب تک میں باہر آجاؤں۔ ہم طے کر چکے تو اس نے ہرمندر صاحب کی طرف دیکھ کرسیس نوایا اور گاڑی بڑھا دی۔ تب میں اور امرت کور ہرمندر صاحب کے باہر تھے۔
صدر دروازے پر میں نے جوتے اتارے، جرابیں بھی اتار دیں تو امرت کور نے ایک بسنتی رنگ کا رومال مجھے دیا کہ یہ سر پر باندھ لوں۔ میں نے وہ رومال باندھ لیا۔ ہم دروازہ پارکر کے آگے گئے تو ایک وسیع عمارت میرے سامنے تھی۔ پانی کے بڑے سارے تالاب کے درمیان ایک چوکور سنہری عمارت تھی ، ایک راستہ جیٹی کی مانندوہاں تک جاتا تھا۔ نیلگوں پانی لہرا رہا تھا۔ تالاب کے چاروں جانب کافی ساری جگہ چھوڑ کر برآمدہ تھا اور پھر دو منزلہ کمرے۔
وہاں بہت سارے لوگ تھے۔ کوئی ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔ آنکھیں بند کیے رب سے رابطہ جوڑے ہوئے تھا۔ کوئی بیٹھا تھا۔ بہت سارے آجارہے تھے۔ کوئی پانی کے تالاب میں تھے۔ ان کا جو عقیدہ تھا، اس کے مطابق وہ اپنی پرستش میں مصروف تھے۔ امرت کور نے دونوں ہاتھ جوڑے، اس عمارت کی طرف رخ کیا اور آنکھیں بند کر کے کتنی ہی دیر تک ساکت وصامت کھڑی رہی۔ پھر دھیرے دھیرے اونچی آواز میں بولی۔
”اپجی پریت پریم رس چاؤ…. من تن انتر ایھی سو آؤ…. نیتر ہہ پیکہتہ درس سکھ ہووئے…. من بگسے سادھ چرن دھوئے…. بھگت جنا کے من تنِ رنگ …. ورلا کوؤ پاوے سنگ…. ایک بسنت دیجئے کر مئیا…. گُر پر سادِ نام
جپ لئیا….“
(محبت کا رس پی کر میں اپنے دل میں یہی شوق رکھوں۔ میرے تن من میں یہی ذوق اور شوق ہے۔ اپنی آنکھوں سے دیدار کروں اور اس دیدار کا سکھ پاؤں۔ سادھو کے پیر دھوکر میں سکھ چین پاؤں۔ وہ من جو رب کی پاک محبت میں رنگین ہوجاتے ہیں۔ کوئی قسمت والا ہی اس قرب کو پاتا ہے۔ مجھ پر ایک بخشش کر، کیونکہ میں ایک ہی شے کی طالب ہوں۔ میں اپنے گرو کی رحمت سے، بس حق نام ہی جپتا رہوں)۔
وہ کہہ چکی تو خاموش ہو گئی۔ کتنا ہی وقت یونہی گزر گیا۔ پھر اس نے آنکھیں کھولیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر مڑ گئی۔ اس کارخ جنوب کی جانب کے کمروں کی طرف تھا۔ پھر جیسے ہی برآمدے میں پہنچے، وہ وہاں رک گئی اور بڑے سکون سے بولی۔
”بیٹھ جاؤ“۔
یہ کہتے ہوئے وہ خود ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ جبکہ میں اس کے سامنے فرش پر بیٹھ گیا۔ وہ ایک ٹک میری طرف دیکھے چلے جارہی تھی۔ بلاشبہ وہ مجھ میں نور محمد دیکھ رہی تھی۔ میں بھی خاموش مگر بے چین اس کے سامنے بیٹھا رہا۔ بہت حد تک میرے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہو گئی تھی کہ وہ کچھ بولے، اس کے ذہن میں کیا ہے۔ اس کا اظہار کرے، میں بھی سنوں وہ اپنے من میں کیا لیے پھرتی ہے۔ انہی لمحات میں یہ فیصلہ میں نے کر لیا تھا کہ اگر وہ کچھ نہیں کہے گی تو میں اسے بولنے پر مجبور کر دوں گا۔ حالانکہ اس کا انداز ہی بتا رہا تھا کہ وہ مجھ سے باتیں کرنے کے لیے ہی یہاں آ کر بیٹھی ہے۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ وہ بولی۔
”بلال….! میں جانتی ہوں کہ پرونت کور نے تجھ سے بڑی باتیں کی ہوں گی اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ پورا گاؤں میری خاموشی ٹوٹ جانے پر حیران ہو گا۔ اسی وجہ سے اس نے تیرے ساتھ باتیں کی ہوں گی۔ کیونکہ میں جانتی ہوں کہ میں اگر حیرت سے چونک سکتی ہوں تو وہ بے چاری تو پاگل ہو گئی کہ نور محمد کہاں سے آگیا۔ پورے گھر کے ہر بندے کو، میرے گھروالوں سمیت سب کو یہ بھی حیرت ہوئی ہو گی کہ میرا پاگل پن ختم ہو گیا۔ حالانکہ کوئی یہ جانتا ہی نہیں کہ میں کبھی بھی پاگل نہیں تھی، میں تو ان لو بھی لالچ اور تعصب کے مارے لوگوں سے خود بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور پھر میرے سامنے تو ایک ہی مقصد تھا۔ اپنے گرو سچے بادشاہ کو منانا کہ وہ کسی طرح نور محمد کو واپس لے آئے۔ شاید قسمت میں یہی نہیں کہ نور محمد واپس آئے لیکن گرو نے اپنا رنگ دکھایا ہے اور تیری صورت میں اسے مجھ تک بھیج دیا۔ جس مقصد کے لیے میرا دھیان تھا، وہ ٹوٹ گیا۔ اب جو رب کرے وہ سب ٹھیک….“”دادی پرونت کور نے بہت ساری باتیں بتائی ہیں۔ وہ ساری باتیں سن کر میرے دل میں آ پ کے لیے نفرت کے سوا کچھ اور نہیں آسکتا، لیکن سچی بات یہ ہے کہ نفرت کرنے کو بھی من نہیں مانتا“۔


دوام – مکمل ناول پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں


”اپنے اندر کے سچ کو مانو، یہی انسان کو سچی راہ دکھاتا ہے۔ اس بے چاری کو بہت ساری باتوں کا پتہ ہی نہیں وہ کیا بتائے گی…. خیر….! میرے رب کی کرپا ہے مجھ پر کہ اس نے اپنے درپر مجھے بلایا اور تیرے ساتھ بات کرنے کا موقعہ دیا۔ سن پتر،یہاں پاک دوارے بیٹھ کر میں تجھ سے جھوٹ نہیں بولوں گی“۔ یہ کہہ کر وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر کہتی چلی گئی۔
سردار بلوندر سنگھ کی بیٹی امرت کور پر جوانی ٹوٹ کر آئی تھی۔ اگرچہ گاؤں میں بہتری حسین لڑکیاں تھیں۔ جوانی ان پر بھی آئی تھی لیکن اس کی بات ہی الگ تھی۔ اس کا باپ اس سے بہت محبت کرتا تھا۔ یہی محبت اسے جہاں اعتماد دے گئی تھی، وہاں وہ اپنی ہی جوانی کے نشے میں مخمورہو گئی تھی۔ وہ لاڈلی تھی اور بہت ضدی بھی ہو گئی تھی۔ گھر میں کسی شے کی کمی نہیں تھی، پورا گاؤں اس کے باپ کی نہ صرف عزت کرتا تھا بلکہ اس سے کافی حد تک خوف زدہ تھا۔ اس لیے وہ جہاں جاتی اور جو مرضی کرتی، کوئی اسے کچھ کہتا نہیں تھا، سبھی اس کا الہڑ پن نظر انداز کر جاتے تھے۔ پھر ان دنوں ماحول ہی کچھ ایسا تھا کہ لوگ سادہ اور تحمل والے تھے۔
پرونت کور ہی اس کی ایک سہیلی تھی۔ سوچ مل جانے کے علاوہ بھی کچھ باتیں ایسی تھیں جن سے ان کے درمیان تعلق مضبوط ہو تا گیا۔ پرونت کور بھی گاؤں کے امیر اور معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ گو اس کی طرح خوبصورت اورحسین نہیں تھی لیکن دولت میں اوررکھ رکھاؤ میں کسی طور کم نہیں تھی۔ وہ الہڑ نہیں تھی بڑی سنجیدہ قسم کی لڑکی تھی، اس لیے امرت کور کی بہت ساری شرارتیں اور بے قوفیاں چھپا جایا کرتی تھی۔ دونوں ہی گاؤں کے واحد پرائمری سکول میں پڑھی تھیں۔پھر بچپن گزرتے ہوئے انہیں پتہ ہی نہ چلا سکول کی دوستی پروان چڑھتی رہی اور دونوں ہی عمر کے اس حصے میں آگئیں، جہاں خواب رنگین ہو جاتے ہیں۔ ان میں پرندے چہچہانے لگتے ہیں، منظر بدل جاتے ہیں اور ان منظروں میں سوائے انتظار کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے گھر کے سامنے رہا کرتی تھیں امرت کور کے باپو کی بڑی ساری حویلی تھی، مگر ان کا مکان بھی کچھ کم نہیں تھا۔
وہ پہروں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی رہتیں، کھیتوں میں نکل جاتیں اور وہاں موجود کنویں پر دن گزاردیتیں، دل کرتا تو گاؤں کی کسی گلی میں نکل پڑتیں، یونہی کسی کے گھر جا کر کھا پی آتیں۔ کبھی ڈیوڑھی میں چرخہ کاتتی بوڑھی عورت کے پاس جا کر بیٹھ جاتیں۔ اسی ہنسی خوشی میں ان کے دن گزررہے تھے۔
گاؤں کے جنوب میں بڑا میدان بیساکھی کے میلے سے بھر چکا تھا۔ قریب وجوار کے گاؤں سے آئے ہوئے لوگوں سے بہت رش تھا۔ امرت کو ابھی بلوندر سنگھ کے ساتھ وہ میلہ دیکھنے گئی تھی۔ بڑی منت سماجت سے اس نے پرونت کور کی ماں سے اجازت لی تھی۔ ان کا اپنا تانگہ تھا جس پر سوار ہو کر وہ میلہ دیکھنے گئی تھیں۔ ان دونوں کے دوپٹے کے پلو سے بڑی رقم بندھی ہوئی تھی کہ وہاں میلے میں سے بہت کچھ خریدنا ہے۔ بلوندر سنگھ کی لاڈلی جب اپنی سہیلی کے ساتھ میلے کے میدان میں داخل ہو ئی تو اسے جو پہلا منظر نظر آیا، وہ اسی میں کھو گئی۔ بلوندر سنگھ نے بھی اپنے کوچوان سے کہہ دیا کہ رک جائے۔ وہاں سامنے بڑا سارا مجمع لگا ہوا تھا اور اس میں آس پاس کے گاؤں سے شہ زور کھڑے تھے۔ ان کے درمیان پتھر اٹھانے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ مختلف وزن کے بھاری بھاری پتھر ان کے سامنے تھے۔ اس وقت جو پتھر اٹھا رہا تھا، وہ انہی کے گاؤں کا نوجوان نور محمد تھا۔ اس نے پہلا پتھر بڑی آسانی سے اٹھا لیا، پھر دوسرا، تیسرا اور چوتھا پتھر جو خاصا بھاری تھا، اسے اٹھاتے ہوئے طاقت صرف کرنا پڑ رہی تھی۔ اس نے پورے جوش سے وہ پتھر اٹھایا، اپنے گھٹنے کا سہارا دیا اور سینے کے قریب لے کر پوری قوت سے اٹھا کر کاندھے پررکھ لیا۔
پھر چند لمحے اسے گھماتا رہا اور پھر پھینک دیا۔ اس کے ساتھ ہی پورا مجمع واہ واہ اور شور سے گونج اٹھا۔ تنو مند نور محمد کے بدن پر فقط لنگوٹ تھا۔ اس کا سنہری بدن دھوپ میں چمک رہا تھا اور وہ فتح مندی کے احساس سے معمور سب کی طرف دیکھ رہا تھا۔ فطری طور پر اپنے گاؤں کے نوجوان کو جیت سے ہمکنار ہوتا ہوا دیکھ کر بلوندر سنگھ بھی عش عش کر اٹھا۔ پھر اس کی تعریف کرتا ہوا کوچوان کو تانگہ آگے بڑھانے کو کہا۔ تانگہ تو آگے بڑھ گیا مگر امرت کور کا دل وہیں کہیں رہ گیا تھا۔ وہ سو جان سے نور محمد پر مر مٹی تھی۔ اسے میلہ اچھا ہی نہ لگا۔ پلو سے بندھی ہوئی ساری رقم یونہی پلو ہی سے بندھی رہ گئی۔ اس نے کچھ بھی نہ لیا۔ باپو نے جو لے کر دے دیا، سو لے لیا۔ اس کا سارا دھیان بس نور محمد ہی میں تھا۔ جسے معلوم بھی نہیں تھا کہ ایک الہڑمٹیار، اس پر عاشق ہو چکی ہے۔
عشق بھی بڑی عجیب شے ہے، جسے ہو جائے اسی کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی لذت کیا ہے۔ یہ عشق ہی ہے جو اپنے اندر اس قدر قوت رکھتا ہے کہ چنگے بھلے بندے کو بدل کر رکھ دے۔ عشق جب ہوتا ہے تو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہوگیا ہے، لیکن یہ بدن ہی سے ہو کر روح تک پہنچتا ہے۔ بدن سے روح تک پہنچنے کے بڑے مراحل ہیں۔ آشنائی سے بات پیار تک بڑھتی ہے، پھر کہیں جا کر محبت ہوتی ہے اور محبت بھی تو صرف خوبیوںسے کی جاتی ہے، لیکن عشق خوبیوں خامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اسی ذات میں سما جانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ جس سے وہ عشق کرتا ہے۔ بات جب روح تک پہنچی ہے۔ تب تک یہاں عشق اپنا کام کر چکا ہوتا ہے۔ جنوں کی باری تو پھر کہیں بعد میں جا کر آتی ہے۔
امرت کور بھی اپنے ہوش و حواس گم کر بیٹھی تھی۔ اس کے خوابوں میں انتظار ختم ہو گیا تھا، وہ بس اب تو آمد ہی آمد تھی۔ نور محمد اس کے خوابوں میں بس گیا۔ اسے یہ ہوش ہی نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے دھرم سے تعلق رکھتا ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک نہیں کئی خلیج حائل تھیں۔ وہ کسی بھی رکاوٹ سے بے نیاز محض اس کے بارے میں سوچتی، بلکہ وہ خود کیا سوچتی، وہ اس کے ذہن اور دل پر چھایا ہوا تھا۔ ذہن کی کیا اوقات، بدن کا حکمران تو دل ہوتا ہے۔ جب نور محمد اس کے دل میں سما گیا تو ذہن نے تو اس کی تابعداری کرنا ہی تھی۔ لاکھ خدشات راہ میں حائل ہوتے لیکن اسے کسی کی پروا نہیں تھی۔
”کیا ہو گیا ہے تمہیں امرت کورے….! ہر وقت سوچوں ہی میں کیوں کھوئی رہتی ہے، کہیں کوئی جن بھوت تو نہیں چمٹ گیا تم سے؟“ ایک دن پرونت کور نے یونہی مذاق میں پوچھا توہ مسکراتے ہوئے بولی۔
”ہاں کچھ ایسا ہی ہو گیا ہے، مگر اس جن کو قابو کرنا بڑا ہی مشکل لگتا ہے“۔
”ارے واہ….! ایسا ہے کیا؟ کون ہے وہ ….؟“ پرونت کور نے انتہائی تجسس سے پوچھا۔ جس پر امرت کور چند لمحوں تک سوچتی رہی کہ اس راز کو اپنے تک ہی رکھے یا اپنی عزیز ترین سہیلی کو بتا دے۔ پھر اس نے کہہ ہی دیا۔
”وہ نور محمد ہے“۔
”ہائے امرت، وہ …. وہ تیرے خیال میں کیسے آیا، وہ تو …. ”پرونت کور نے شدتِ حیرت سے پوچھا تو امرت کور نے میلے کی ساری بات بتا دی۔
”میں بھی تو تیرے ساتھ تھی، مجھے تو ایسا کچھ نہیں ہوا، وہ تو مسلمان ہے، تُو اس کے خیالوں میں کیوں؟“ پرونت کور نے کہا تو امرت کور بولی۔
”شاید یہ اپنی اپنی نگاہ کا فرق ہے۔ تیری نگاہ کہیں اور ہے اور میری نگاہ میں وہ…. آیا ہے۔ آتے ہی دل میں اتر گیا ہے۔ میرے دل نے پوچھا ہی نہیں کہ وہ مسلمان ہے یا سکھ…. بس وہ تو میرے دل میں سما گیا ہے“۔
بس وہی دن تھا جب پرونت کور ایک سہیلی سے زیادہ ناصح بن گئی ۔ امرت کور کے تو حواسوں پر نور محمد چھا گیا تھا اس نے تو اسی کی بات کرنا تھی جبکہ وہ اسے سمجھاتی رہتی تھی کہ ان راہوں پرمت چلو۔ امرت کور اپنی آگ میں خود ہی جل رہی تھی۔اس جلنے کے دوران تیل کا کام پرونت کی نصیحتوں نے کیا۔ وہ ہر وقت یہی سمجھاتی رہتی تھی کہ وہ مسلمان ہے، اسے نہیں مل سکتا۔ تب وہ صرف اس نہج پر سوچنے لگی کہ نور محمد کا حصول کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ اس کی تمام تر سوچوں کا مرکز یہی گتھی سلجھانا تھا۔ حالانکہ بے چارے نور محمد کو معلوم ہی نہیں تھا کہ کوئی اس کے بارے میں اتنی شدت سے سوچ رہا ہے۔

امرت کور کے ذہن میں ایک طریقہ ایسا آہی گیا۔ اس نے یہی سوچا کہ نور محمد اگر اس کی بات مان لے تو پھر وہ اسے بھگا کر یہاں سے کہیں دورلے جائے گی۔ اتنی دور کہ ان پر کسی کا سایہ تک نہ پڑے۔اسے اس سے غرض نہیں تھی کہ نور محمد سکھ ہو جاتا ہے یا اسے مسلمان ہونا پڑتا، اسے تو بس نور محمد چاہئے تھا۔ جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اس نے یہ اندازہ لگانا شروع کر دیا تھا کہ جتنی اس کی زمین یہاں اس گاؤں میں ہے‘ اس سے دو گنی زمین وہ اسے لے کر دے گی۔ ظاہر ہے وہ یہاں رہ تو نہیں سکتی تھی۔ اس کا باپو چاہے جتنی مرضی اس سے محبت کرتا ہے لیکن عزت اور غیرت کے نام پر وہ اسے ختم کرنے میں ایک لمحہ بھی نہ لگاتا۔ یہ اسے بھی اچھی طرح معلوم تھا۔ پھر اس نے ایک مرتبہ نور محمد سے اپنے دل کا حال کہنے کا بھرپور ارادہ کر لیااور بیل گاڑی کے تھوڑے سے سفر میں اس نے اپنا حالِ دل کہہ دیا۔ جس کا جواب نور محمد نے بہت مایوس کن دیا۔ جس وقت وہ بیل گاڑی سے اُتر کر اپنے گھر کی طرف جارہی تھی۔ اس وقت جہاںوہ اپنے ہی عشق کی آگ میں جل رہی تھی۔ وہاں اپنی ہتک ہونے پر بھی وہ شعلہ جوالا بن گئی تھی۔ وہ گاؤں کی الہڑ مٹیار جس پر فدا ہونے کے لیے کئی راہوں میں بیٹھے رہتے تھے۔ نور محمد نے کس سرد مہری کے ساتھ اسے احساس دلا دیا کہ وہ کوئی شے ہی نہیں ہے۔ اس کاسراپا، حسن اور جوانی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ ورنہ گاؤں کے کئی گبھرو نوجوان اس کے طلب گار تھے، جنہیں اس نے کبھی اس اہمیت کے قابل ہی نہیں سمجھا تھا۔ اس دفعہ جب وہ اپنی حویلی پہنچی، اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ چاہے جس طرح بھی ہو وہ نور محمد کو حاصل کر کے رہے گی۔ روحانی طور پر نہ سہی جسمانی طور پر ہی سہی۔ شاید یہ عورت کی فطرت ہے کہ جب اسے اہمیت نہ دی جائے تو وہ اپنے تمام ہتھیار آزمانا شروع کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کے ترکش کاآخر تیر بھی ختم ہو جاتا ہے۔ تب بھی وہ اپنی ہزیمت کا بدلہ اسی انداز میں لیتی ہے کہ اگلے کو جلا کر خاکستر کر دے، وہ چاہے محبت میں ہو یا نفرت میں۔

جاری ہے
**********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں