The news is by your side.

سعودی اقامہ ہولڈرز کے اہم سوال کا جواب

اگر کسی شخص کے اقامہ کی مدت ختم ہوگئی تو اس کی اسی ویزے پر واپسی تب ہی ممکن ہوگی جب کہ اس کا اقامہ منسوخ نہ کیا گیا ہو۔

اقامہ کی عدم تجدید کے حوالے سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ کورونا کے دوران پاکستان گیا تھا، اقامہ ختم ہوگیا ہے جس کی تجدید نہیں کرائی گئی تو کیا اسی ویزے پر وہ سعودی عرب دوبارہ جاسکتا ہے؟

اے آروائی نیوز براہِ راست دیکھیں live.arynews.tv پر

تو ایسے افراد جن کے اقامے کی مدت ختم ہوگئی اور انہوں نے اس کی تجدید نہیں کرائی تو پرانے ویزے پر اسی صورت سعودی عرب دوبارہ آمد ممکن ہے جب کہ وہ اقامہ متعلقہ حکام کی جانب سے منسوخ نہ کیا گیا ہو۔ اگر اقامہ کینسل ہوگیا ہو اور ’ خرج ولم یعد ‘ کی کٹیگری میں شامل ہونے کی صورت میں سابق کفیل کی جانب سے دوسرا ویزہ جاری کرنے کے بعد ہی اس پر وہ دوبارہ سعودی عرب آسکتے ہیں۔ دوسری صورت میں تین برس کی مدت مکم ہونے کے بعد ہی دوسرے کسی ورک ویزے پر سعودی عرب آیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس حوالے سے جوازات کا قانون واضح ہے کہ جو غیر ملکی کارکن بیرون ملک خروج وعودہ پرجاتے ہیں ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ واپسی مقررہ مدت کے دوران کریں اگرمقررہ مدت کے دوران واپسی نہیں ہوتی تو اس صورت میں انہیں چاہیے کہ وہ مطلوبہ مدت کی مقررہ فیس ادا کرکے توسیع حاصل کریں تاکہ اقامہ کینسل نہ ہو۔

خروج وعودہ میں توسیع نہ لینے پراقامہ کینسل ہوجاتا ہے اس صورت میں تین برس کے لیے مذکورہ شخص کا مملکت میں داخلہ بند ہوجاتا ہے۔

اسی طرح کا ایک اور سوال کہ وزٹ ویزے کے حوالے سے پوچھا گیا کہ اہلیہ کا وزٹ ویزہ 6 جون 2022 کو ایکسپائر ہونا ہے لیکن واپسی کی فلائٹ 7 جون کی ہے تو کیا ایک دن کی تاخیر سے روانگی پر کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے جوازات کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ویزے کی ایکسپائری سے قبل مملکت سے واپسی ضروری ہے بصورت دیگر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی شمار کی جاتی ہے۔

واضح رہے انٹرنیشنل امیگریشن قوانین کے تحت کسی بھی ملک کے ویزے کی مدت کے دوران اس ملک میں قیام کرنے کی اجازت ہوتی ہے ویزے کی آخری تاریخ ختم ہونے سے قبل ایگزٹ کرنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں