The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس : بچوں کو وبا سے محفوظ رکھنے کیلئے اہم فیصلہ

لندن : آکسفورڈ یونیورسٹی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بہت جلد کم عمر بچوں پر کورونا ویکسین کی تحقیق کا آغاز کرے گی۔

امریکی ادارہ خوراک ایف ڈی اے نے ملک میں دو کوویڈ19 ویکسینوں کو ہنگامی طور پر استعمال کی اجازت دے دی ہے اور امریکہ میں لاکھوں افراد جن میں چلڈرن ہیلتھ کیئر کارکنان شامل ہیں ان کو اپنی خوراکیں بھی مل چکی ہیں۔

اس حوالے سے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے بچوں پر کورونا ویکسین کی تحقیق کا اعلان کیا ہے، اس تحقیق میں چھ سے سترہ سال تک کے بچے شامل ہوں گے۔

اس سلسلے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آکسفورڈ یونیورسٹی کے عہدیدار پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے بتایا کہ مذکورہ تحقیق میں بچوں پر آکسفورڈ کی ویکسین آسٹرا زینیکا کے اثرات جانے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق میں تین سو رضا کار بچے حصہ لیں گے، تحقیق کا آغاز رواں ماہ آکسفورڈ، لندن، برسٹل اور ساؤتھ ہیمپٹن میں ہوگا۔

پروفیسر اینڈریو پولارڈ کا کہنا تھا کہ کورونا نے بچوں کو کم متاثر کیا ہے لیکن پھر بھی حفاظتی تدابیر کے طور پر تحقیق کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق میں ویکسین کے بچوں کی قوت مدافعت (امیون سسٹم ) پر مثبت یا منفی ردعمل سے متعلق جانچ پڑتال کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں آئرلینڈ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں اس بات انکشاف کیا گیا تھا کہ وبا سے متاثرہ بچوں میں بدہضمی، ہیضہ اور الٹیوں کی شکایت کوویڈ19 کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔

اس وقت برطانیہ میں بچوں میں کورونا وائرس کی علامات میں تیز بخار، مسلسل کھانسی اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی بتائی گئی ہیں۔

اس سے قبل ڈھائی لاکھ کے قریب بچوں پر کنگز کالج لندن کی ایک تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا کہ بالغ افراد کے برعکس بچوں میں کھانسی کوویڈ 19 کی عام علامت نہیں بلکہ نظام ہاضمہ کے مسائل زیادہ عام ہوتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں