The news is by your side.

Advertisement

امریکا چین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا

واشنگٹن: امریکا چین کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ جوبائیڈن انتظامیہ نے اپنے سب سے بڑے حریف چین سے جنگ کی پالیسی واضح کر دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایشیا سوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا چین کے ساتھ براہ راست روابط بڑھانے کے لیے تیار ہے، امریکا چین کے ساتھ نئی سرد جنگ نہیں چاہتا۔

انٹونی بلنکن نے کہا کہ امریکا چین کو عالمی معیشت سے الگ کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے تاہم چاہتا ہے کہ بیجنگ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم تنازعات یا نئی سرد جنگ کی تلاش میں نہیں ہیں، اس کے برعکس ہم دونوں سے بچنے کے لیے پُر عزم ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے مفادات کے دفاع کے لیے چین سے مقابلہ کریں گے، ہم مستقبل میں اپنے وژن کی تعمیر کے لیے چین سے مقابلہ کریں گے، امریکا ون چائنہ پالیسی پر کار بند ہے، ون چائنہ پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں امریکا اور چین کے تعلقات کئی دہائیوں میں اپنی نچلی ترین سطح پر آگئے اور موجود صدر جوبائیڈن کے دور میں مزید تنزلی کا شکار ہوگئے ہیں۔

مارچ میں چین کے ترجمان ژانگ یے سوئی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کی طرف سے چین کو حریف سمجھنے سے صرف چین امریکا باہمی اعتماد اور تعاون کو نقصان پہنچے گا۔

ترجمان نے کہا تھا کہ چین اور امریکا کے درمیان مستحکم تعلقات دونوں ممالک کی ترقی کے لیے بہترین اور بین الاقوامی امن کو برقرار رکھنے کے لیے سازگار ہیں، ایک چین کا اصول چین کے تمام ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے فروغ کی سیاسی بنیاد ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں