ایبٹ آباد ‌میں‌ بھی آرمی چیف سے متعلق بینرز آویزاں، تحقیقات شروع -
The news is by your side.

Advertisement

ایبٹ آباد ‌میں‌ بھی آرمی چیف سے متعلق بینرز آویزاں، تحقیقات شروع

ایبٹ آباد:مختلف شہروں کے بعد ایبٹ آباد میں بھی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے متعلق بینرز آویزاں کردیے گئے، حساس اداروں نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

تفصیلات کے مطابق ملک کے اہم شہروں کے بعد اب خیبرپختونخوا کے علاقے ایبٹ آباد کے مختلف علاقوں میزائل چوک، شفیق پلازا ، ایوب میڈیکل کمپلیکس اور کینٹ کی حدود میں بھی نامعلوم گروپ کے نامعلوم افراد کی جانب آرمی چیف آف اسٹاف کی تصاویر والے بینرز آویزاں کردئیے گئے۔

ایبٹ آباد کے مختلف علاقوں میں لگائے جانے والے بینرز دیگر علاقوں کے بینرز سے قدرے مختلف ہیں، ایبٹ آباد میں لگائے جانے والے بینرز پر آرمی چیف کی تصویر آویزاں ہے اور اُس کے نیچے یہ شعر لکھا گیا ہے۔

اجالا بھی دیتا ہے میرے سجدوں کی گواہی

میں اندھیروں میں ہرگز عبادت نہیں کرتا

اس سا دنیا میں کوئی منافق نہیں قتیل

جو ظلم سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

مزید پڑھیں :      راولپنڈی : آرمی چیف کی تصاویر والے بینرز مختلف شہروں میں آویزاں

یاد رہے دو روز قبل ملک کے اہم شہروں میں آرمی چیف کے حق میں بینرز آویزاں کیے گیے تھے، جن پر ’’اب آ بھی جاؤ‘‘ کے الفاظ درج تھے، ان بینرز کے حوالے سے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں خاصی تشویش پائی جاتی ہے جبکہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’ان بینرز کا آرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔

پڑھیں :       آئی ایس پی آر کا فوج کی حمایت میں آویزاں پوسٹرز سے اظہار لاتعلقی

دوسری جانب سیاست دانوں نے بینرز لگانے والے افراد کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی ہے، جبکہ اپوزیشن لیڈر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ آستینں چڑھانے والےحکومتی وزراء میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ایک بینر بھی اتار سکے، انہوں نے مزید کہا کہ ’’بنیرز لگانے کا معاملہ پاناما لیکس سے زیادہ سنگین ہے اور اس پر حکومت کو سخت ایکشن لینا چاہیے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں :   آستینیں چڑھانے والے وزراء کی جرات کہاں گئی،خورشید شاہ

پیپلزپارٹی کےسینیٹر اعتزاز احسن نے بینرز کو حکومتی سازش قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اس سازش کے پیچھے وفاقی حکومت خود ملوث ہے‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں