The news is by your side.

Advertisement

فوجی عدالتوں‌ کی مدت پوری، سماعت کا اختیار ختم

اسلام آباد: فوجی عدالتوں کی مدت میعاد ختم ہوگئی،اب فوجی عدالتیں کیس نہیں سنیں گی،حکومت کی جانب سے فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے تیار کردہ مسودہ قومی اسمبلی میں پیش ہی نہیں کیا گیا۔


یہ پڑھیں: فوجی عدالتیں 3 روزبعد ختم، مقدمات اے ٹی سی منتقل ہونے کا امکان


تفصیلات کے مطابق فوجی عدالتیں اب کیس نہیں سنیں گی، فوجی عدالتوں کی مدت معیاد 7 جنوری 2017ء کو ختم ہوگئی،فوجی عدالتیں 7 جنوری 2015ء کو آئینی ترمیم کے ذریعے دو سال کے لیے بنائی گئیں تھیں۔

فوجی عدالتوں کے مستقل قیام کے لیے وزارت داخلہ کا تیار کردہ قانونی مسودہ منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا، حکومت کی جانب سے اس اہم ایشو پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

فوجی عدالتوں کے مستقل قیام کے لیے وزارت داخلہ نے تحفظ پاکستان ایکٹ (پی پی او) اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کو یکجا کرکے نئے قانون کا مسودہ تیارکیا تھا، اطلاعات تھیں کہ وزیر داخلہ کی حتمی منظوری کے بعد اس مسودے کو ایکٹ بنانے کے لیے اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوسکا اور فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوگئی۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں قوانین یکجا ہونے سے دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لیے فوجی عدالتیں مستقل طورپرقائم ہوجائیں گی، اس نئے مسودے میں کسی بھی شخص کو 90 روز کے لیے حراست میں رکھنے کی شق بھی شامل ہے تاہم یہ شق فی الوقت پی پی او کی مدت ختم ہونے پر غیر مؤثر ہوچکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، دوسال کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں، فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدمات اب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 161 دہشت گردوں کو سزائے موت اور 113 کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، 12 دہشت گردوں کو گزشتہ سال پھانسی دی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں