The news is by your side.

Advertisement

معروف شاعر، مضمون نگار اور مترجم عرش ملسیانی کا یومِ وفات

آج اردو زبان کے معروف شاعر، مضمون نگار اور مترجم عرش ملسیانی کا یومِ وفات ہے۔ ان کا خاندانی نام بال مکند تھا اور عرش تخلص جنھیں‌ دنیائے ادب میں عرش ملسیانی کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ ملسیان ان کا آبائی علاقہ ہے اور یہ ان کے نام سے جڑا رہا

ستمبر 1908ء میں‌ جالندھر کے ایک قصبے ملسیان میں آنکھ کھولنے والے بال مکند کے والد بھی شعروسخن کی دنیا میں ممتاز تھے۔ ان کے والد جوش ملسیانی اپنے وقت کے نام ور اور استاد شاعر داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔ یوں‌ شاعری اور لکھنے پڑھنے کا شوق عرش ملسیانی کو گویا ورثے میں ملا۔

عرش پیشے کے لحاظ سے انجینئر تھے اور محکمۂ نہر سے وابستہ رہے۔ بعد میں لدھیانہ کے ایک اسکول میں ملازم ہوئے۔ عرش کو افتادِ طبع دہلی لے آئی جہاں وہ ادبی رسالے ’’آج کل‘‘ کے نائب مدیر بنے۔

اس ادبی پرچے کو جوش جیسے شاعر اور بڑے لکھاری نے سنبھال رکھا تھا اور یوں کوئی سات سال وہ جوش ملیح آبادی کے رفیقِ کار کی حیثیت سے جمع و تدوین اور ادارت کا کام دیکھتے رہے۔ جوش نے تقسیم کے بعد پاکستان کا رخ کیا تو عرش ملسیانی آج کل کے مدیر بنائے گئے۔

عرش ملسیانی تخلیقات میں شاعری کے علاوہ تراجم اور مزاحیہ مضامین بھی شامل ہیں۔ انھوں نے عمر خیّام کی رباعیوں کا ترجمہ کیا اور یہ ہست و بود کے نام سے شایع ہوا۔

’ہفت رنگ‘ اور ’رنگ و آہنگ‘ کے نام سے عرش کے شعری مجموعے بھی منظر عام پر آئے جب کہ ان کے مزاحیہ مضامین ’پوسٹ مارٹم‘ کے نام سے کتابی شکل میں شایع ہوئے۔

عرش کی ایک غزل دیکھیے۔

دل میں ہر وقت یاس رہتی ہے
اب طبیعت اداس رہتی ہے

ان سے ملنے کی گو نہیں صورت
ان سے ملنے کی آس رہتی ہے

موت سے کچھ نہیں خطر مجھ کو
وہ تو ہر وقت پاس رہتی ہے

دل تو جلووں سے بد حواس ہی تھا
آنکھ بھی بد حواس رہتی ہے

دل کہاں عرشؔ اب تو پہلو میں
ایک تصویرِ یاس رہتی ہے

عرش ملسیانی 1979ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں