The news is by your side.

Advertisement

جوڑوں کی بیماری میں مبتلا بچہ بابراعظم سے ملاقات کا خواہشمند

کراچی : انسان ہمت اور حوصلے سے ہر وہ کام ممکن بنا سکتا ہے  جس کوحاصل کرنے کی وہ ٹھان لے، چاہے وہ کام کتنا ہی کٹھن اور دشوار ہی کیوں نہ ہو۔

زندگی کی مشکلات اور اس کے مسائل تو ان افراد سے پوچھیں جو کسی خطرناک بیماری یا جسمانی معذوری کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے حوصلے بلند ہیں۔

اپنے مقصد کے حصول کیلئے انتھک محنت اور سچی لگن ہو تو  تکلیف اور معذوری کے باوجود دنیا کی کوئی طاقت آپ کو کامیابی تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔

کچھ ایسی ہی مثال کراچی کے نوجوان منیب الباری کی ہے جس نے ہمت اور بہادری کی اعلیٰ مثال قائم کردی، نوجوان نے ہمت نہیں ہاری اور وہ اپنی زندگی سے مکمل طور پر لطف اندوز ہونا چاہتا ہے۔

منیب کو چھوٹی سی عمر میں ہی جوڑوں کی بیماری نے جکڑ لیا لیکن وہ اب بھی پرعزم ہے کہ وہ ایک بہترین کرکٹر بن کر پاکستان کا نام روشن کرے گا۔

اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے منیب الباری نے بتایا کہ میرے علاوہ میرے بھائی کو بھی یہی بیماری ہے لیکن ہم نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا، والدین نے ہمیشہ ہماری حوصلہ افزائی کی۔

منیب الباری کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میں آل راؤنڈر جیسا اچھا کرکٹر بنوں اور پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کروں۔

اپنی بیماری کے حوالے سے اس کا کہنا تھا کہ ہمارا علاج ہو تو سکتا ہے لیکن وہ بہت مہنگا ہے جسے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے بس جب درد ہوتا ہے تو (پین کلر) گولی کھا لیتے ہیں۔

نوجوان نے بتایا کہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے بیماری کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دی تھی لیکن اب دوبارہ سے پڑھنا شروع کردیا ہے اور ساتھ ساتھ کرکٹ پریکٹس بھی جاری رکھی ہوئی ہے۔

منیب الباری نے اس خواہش کا شدت سے اظہار کیا کہ میں چاہتا ہوں قومی ٹیم کے کپتان بابراعظم سے ملوں اور ان سے اپنے بیٹ پران کا آٹوگراف لوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں