The news is by your side.

Advertisement

لاک ڈاؤن، پاکستان کی معیشت میں 40 فیصد کمی ہوئی، اسد عمر

اسلام آباد: وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملکی معیشت میں 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔

 وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’آف دی ریکارڈ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں کرونا کے زیادہ کیسز آرہے ہیں وہاں زیادہ سختی کرنی چاہئے، سب چاہتے ہیں ملک میں ایک فیصلہ ہی ہو۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے جس علاقے میں زیادہ کیسز ہیں اسے بند کرنا منطقی ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ کیسز کراچی میں ہوں اور لاڑکانہ کو بند کردیا جائے، جہاں جہاں کیسز ہیں اس علاقے میں سخت لاک ڈاؤن ہونا چاہئے۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر جہاں چوری کی گئی اس کے لیے کمیشن بنایا گیا ہے، شہزاد قاسم کی سربراہی میں آزاد کمیشن بنایا گیا ہے جسے اختیارات دئیے ہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ ہماری پالیسی تھی حکومت کے ساتھ کاروبار ہوگا تو مفادات کا ٹکراؤ ہوگا، یہ تو نہیں ہوسکتا کہ کوئی اپنی روزی روٹی چھوڑ دے، کابینہ ممبر یا ایگزیکٹو ممبر بننے کے بعد حکومت کے ساتھ کاروبار مفادات کا ٹکراؤ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کی برآمد کا فیصلہ اس وقت غلط ہوگا جب چینی کی کمی ہوگئی ہو، ملک میں چینی کی کمی نہیں ہوئی صرف قیمتیں بڑھائی گئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی نے کہا تھا گنے کی پیداوار اس سال متاثر ہونے کا خدشہ ہے، فوڈ سیکیورٹی نے کہا تھا پانی کی وجہ سے گنے کی پروڈکشن کم ہوگی، فوڈ سیکیورٹی نے یہ نہیں کہا کہ چینی کی برآمد نہ کریں۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کابینہ میں چینی کا کاروبار کرنے والا صرف ایک وزیر خسرو بختیار ہیں، چینی پر کابینہ اجلاس میں انہوں نے آنے سے معذرت کی تھی، چینی سے متعلق کابینہ اجلاس میں خسرو بختیار نے شرکت نہیں کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں کوئی ایسا نہیں جس نے وزارت کا فائدہ اٹھایا ہو، حکومت میں رہ کر کوئی غلط کام کررہا ہے تو اس کو سزا ہونی چاہئے، سب کاروباری افراد کو مافیا کہنا ٹھیک نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں