The news is by your side.

Advertisement

"کس ویکسین کو تسلیم کرنا ہے؟ فیصلہ عالمی ادراہ صحت نے کرنا ہے "

اسلام آباد: وفاقی وزیر اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کرونا ویکسین سے متعلق عالمی ادارہ صحت کے دہرے روئیے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں اسد عمر نے کہا کہ کس ویکسین کو تسلیم کرنا ہے؟ یہ فیصلہ عالمی ادارہ صحت جیسےاداروں کا ہے، کون سی ویکسین قابل قبول ہے؟ انفرادی ممالک کا یہ فیصلہ انتشار پیدا کررہا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ شہریوں کی صحت و تندرستی کا معاملہ عالمی تنازعات کا شکار نہیں بننا چاہیے۔

این سی او سی کے سربراہ کی جانب سے یہ ٹوئٹ اس تناظر میں کیا گیا ہے کہ جس میں بیرون ملک جانے والے پاکستانی شہریوں پر ایسٹرا زینیکا یا فائزر کمپنی کی کرونا ویکسین لگوانے کی شرط عائد کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی

پنجاب کے کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے اہم رکن اور کنسلٹنٹ پلمونالوجسٹ ڈاکٹر جاوید حیات نے کا کہنا ہے کہ مخصوص قسم کی ویکسین لگوانا بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے مسئلہ بن رہا ہے۔

اس حوالے سے حکومت کوشش کر رہی ہے کہ وہ ویکسینز جو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منظور شدہ ہیں، انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مانا جائے، ان میں چینی کمپنیوں کی بنائی گئی ویکسینز بھی ہیں اور یہ سب عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ ہیں۔

یاد  رہے کہ حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کے سفری مسائل حل کرنے کے لیے ایسٹرا زینیکا ویکسین 18 سال سے زائد عمر کے مردوں کو لگانے کی اجازت دے چکی ہے

 

Comments

یہ بھی پڑھیں