The news is by your side.

Advertisement

پارک لین ریفرنس، آصف زرداری سمیت 13 ملزمان پر فرد جرم عائد

فرد جرم انگریزی میں ہے امید ہے آپ سمجھیں گے: عدالت۔ 30 سال سے کیسز کا سامنا کر رہا ہوں، سنائیں: زرداری

اسلام آباد: پارک لین ریفرنس میں احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری سمیت 13 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی، تمام ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پارک لین ریفرنس میں آصف زرداری، انور مجید سمیت 13 ملزمان پر وڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کر دی گئی، 17 ملزمان میں سے 3 یونس قدوائی، عزیر نعیم اور اقبال میمن کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے، جب کہ ایک ملزم اسلم مسعود وعدہ معاف گواہ بن گیا تھا۔

آصف زرداری پر بلاول ہاؤس کراچی میں وڈیو لنک کے ذریعے فرد جرم عائد کی گئی ہے، جب کہ انور مجید پر کراچی کے اسپتال میں وڈیو لنک کے ذریعےفرد جرم عائد کی گئی۔

سماعت کے لیے تین ملزمان فاروق عبداللہ، محمد حنیف اور سلیم فیصل رجسٹرار آفس کراچی سے وڈیو لنک پر موجود تھے، جب کہ اقبال خان نوری، محمد حنیف، حسین لوائی اور طٰہ رضا کے لیے اڈیالہ جیل میں انتظامات کیے گئے تھے، احتساب عدالت نے تمام ملزمان کی وڈیو لنک پر حاضری یقینی بنانے کا حکم دے رکھا تھا۔

کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے کی، وکیل نے ملزم طہٰ رضا سے ملاقات کے لیے درخواست دائر کی تام جج نے کہا کہ فرد جرم عائد ہونے دیں پھر اس پر دلائل سن لیتے ہیں، دوسری طرف آصف زرداری ویڈیو لنک پر موجود رہے۔

واضح رہے کہ آصف علی زرداری کی ریفرنس خارج کرنے کی درخواست مسترد ہونے پر ان پر فرد جرم عائد کی گئی، درخواست عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق تھی، احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہان بھی طلب کر لیے۔

دوران سماعت آصف علی زرداری ویڈیو لنک پر خود بول اٹھے، انھوں نے اپنے مؤقف میں کہا کہ میرے وکیل فاروق ایچ نائیک سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، مجھ پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی، جج نے کہا ملزم کا چارج فریم ہوتا ہے، آپ سن لیں، آپ کو پڑھ کر سناؤں گا، آپ سے 2 سوال پوچھوں گا کہ آپ تسلیم کرتے ہیں یا انکار، فرد جرم انگریزی میں ہو گی امید ہے آپ سمجھیں گے۔ زرداری نے کہا میں 30 سال سے کیسز کا سامنا کر رہا ہوں، آپ مجھے رولنگ دے دیں۔

جج اعظم خان نے کہا کورٹ رولنگ دے گی، ہم کورٹ آرڈر میں لکھوائیں گے کہ آپ کا وکیل موجود نہیں تھا، اب آپ پر منحصر ہے کہ آپ مانتے ہیں یا انکار کرتے ہیں۔ بعد ازاں، سابق صدر آصف علی زرداری پر فرد جرم کی تحریر پڑھ کر سنائی گئی، عدالت نے پوچھا کیا آپ نے کمپنی پارتھینن کے ذریعے غیر قانونی 1.5 ارب کا قرض حاصل کر کے فراڈ کیا؟ جواب میں آصف زرداری نے کہا میں تمام الزامات کو رد کرتا ہوں، آپ کراچی آ کر عمارت کو بھی دیکھ لیں۔

سماعت کے دوران آصف علی زرداری نے ایک بار پھر ویڈیو لنک پر آ کر کہا مجھے فرد جرم عائد کرتے وقت وکیل کی سہولت نہیں دی گئی، جس پر جج نے کہا ہم آرڈر میں لکھ دیں گے کہ آپ کے وکیل سپریم کورٹ میں تھے۔ بعد ازاں، عدالت نے ملزمان کو لگائی گئی دفعات سے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے آگاہ کیا، عدالت نے کہا ملزمان پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کے سیکشن 9 اے 3، 4،6،12 کے تحت کیس چلے گا۔

آصف زرداری نے ایک بار پھر ویڈیو لنک پر آ کر کہا میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، زرداری نے کہا میں نے 18 ویں ترمیم دی اس لیے مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے مقدمات بنائے جا رہے ہیں، عدالتوں کو غیر جانب دار رہ کر فیصلہ دینا چاہیے۔ جج نے اس پر کہا کہ اسی لیے ہم نے یکم ستمبر کو گواہوں کو بلایا ہے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔

یاد رہے پارک لین ریفرنس میں نیشنل بینک کے 2 سابق صدور علی رضا اور سید قمر حسین آصف زرداری کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے، نیب نے ان کو قانون کے مطابق گواہی دینے پر معاف کر دیا تھا۔

نیب نے آصف علی زرداری کے خلاف پارک لین ریفرنس میں 61 گواہان تیار کر لیے ہیں، جن میں نیشنل بینک کریڈٹ کمیٹی کے تمام افسران، نیب راولپنڈی تفتیشی ٹیم کے 9 افسران، جعلی اکاؤنٹس کی ابتدائی تفتیش کرنے والے ایف آئی اے کے محمد علی ابڑو بھی گواہان میں شامل ہیں، جب کہ قرض لینے والی مبینہ فرنٹ کمپنی پارتھینون کے کمپیوٹر آپریٹر کی گواہی بھی شواہد کا حصہ ہے۔

اس کیس میں ملزمان پر پارک لین کی کمپنی کے نام پر نیشنل بینک سے ڈھائی ارب سے زیادہ کے قرض غبن کا الزام ہے جب کہ آصف زرداری کو پارک لین کا 25 فی صد شیئر ہولڈر ہونے پر ملزم نامزد کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں