site
stats
اہم ترین

نوازشریف کاروبارکی وجہ سے بھارت سے تعلقات چاہتے ہیں، زرداری

اسلام آباد : پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف کو مائنس نہیں کرسکتے، کیونکہ موجودہ وزیراعظم خود کہتا ہے نوازشریف میرے وزیراعظم ہیں، نواز شریف اپنے ذاتی کاروبار کی وجہ سے بھارت سے تعلقات چاہتے ہیں، ن لیگ نے کبھی الیکشن نہیں جیتے،انہیں ہمیشہ جتوایاگیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں میزبان ارشد شریف کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ آصف زرداری نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ2018کے الیکشن اپنے وقت پر ہی ہونگے، 2013الیکشن آر او الیکشن تھےپھر بھی تسلیم کیا۔

نوازشریف اپنے ذاتی کاروبار کی وجہ سے بھارت سے تعلقات چاہتے ہیں

آصف زرداری نے کہا کہ ملک اور بزنس چلانے میں بہت فرق ہے، نوازشریف کے فلیٹس تو بہت معمولی سی کرپشن ہے، نوازشریف کا پاکستان میں دس ارب ڈالرکا بزنس پورٹ فولیو ہے، 10ارب ڈالر کے بزنس میں پارٹنرز ہیں، وہ بزنس کس کےنام ہے یہ تو الگ بات ہے، نوازشریف کے بزنس پارٹنرز کا پتہ چلانا ایف آئی اے کا کام ہے، نواز شریف اپنے ذاتی کاروبار کی وجہ سے بھارت سے تعلقات چاہتے ہیں۔

نوازشریف کو مائنس نہیں کرسکتے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو مائنس نہیں کرسکتے، وہ اب بھی میرے سیاسی حریف ہیں، ان کیلئے کوئی سافٹ کارنر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ والے کرسی کے بہادر ہیں کرسی نہ ہو تو رنگ پیلے ہوجاتے ہیں، ن لیگ نوازشریف کو مائنس نہیں کرسکتی اور نہ ہی ن لیگ کے پاس کبھی بھی عوام کا مینڈیٹ نہیں رہا۔

نوازشریف کے گھرکی سیکیورٹی اب بھی وزیراعظم جیسی ہے، موجودہ وزیر اعظم آج بھی کہتا ہے کہ نواز شریف میرا وزیر اعظم ہے، آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ن لیگ کےپاس کبھی عوام کا مینڈیٹ نہیں رہا، ان کو ہمیشہ پاور میں لایا جاتا ہے۔

نوازشریف نکالے جانے کے قابل تھے اسلئے نکالا گیا

سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ نوازشریف نکالے جانے کے قابل تھے اس لئے انہیں نکال دیا گیا، پاناما پیپرز پرسمجھتا ہوں کہ اللہ نے غریبوں کی سن لی ہے، پاناما کیس شریف خاندان پر اسکائی لیب کی طرح گرا، میاں صاحب گریٹر پنجاب بنانا چاہتےہیں، بھارت سے تعلقات اور گریٹرپنجاب بنانے میں فرق ہے،ایک بینک سےتین بینک ہوگئے،ایک انڈسٹری سے25ہوگئیں۔

میاں صاحب گریٹر پنجاب بنانا چاہتے ہیں

گریٹر پنجاب میں ہرچیز جائے توان کا مال بکتاہے، یہ تو سوداگران پنجاب ہیں، بھارت کا لالو پرساد کہتا ہے کہ میاں صاحب کے ساتھ بزنس کرسکتے ہیں، میری تعریف اگر اس طرح بھارت سے آئے تو یہ پاکستان کیلئے اچھی بات نہیں ہوگی، میاں صاحب پر بھارت نوازی کا کوئی الزام نہیں لگارہا، یہ بات میں گارنٹی سے کہہ رہاہوں مجھے یقین ہے، کہ میاں صاحب گریٹر پنجاب بنانا چاہتے ہیں۔

سیاسی طورپربنگلادیش کے قیام کو چلایا جاتا تو معاملہ حل ہوجاتا

بھٹوصاحب کی جنگ ہی کشمیر کاز پر شروع ہوتی تھی، مقبوضہ کشمیر میں بچے پاکستانی جھنڈا لے کر چلتے ہیں تو بھارتی فوجی انہیں اندھا کردیتےہیں۔

میں جب عمرہ پرگیا تو وہاں بھارتی مسلمان ملا جو رونے لگا،اس نے مجھ سے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں پر بہت ظلم ہورہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کے پاس اتنا پیسہ نہیں کہ انہیں برداشت کرسکے، سیاسی طور پربنگلادیش کے قیام کو چلایا جاتا تو معاملہ حل ہوجاتا، مکتی باہنی سےبھارتی فوج ملی ہوئی تھی لیکن یہ بعد کاعمل تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top