پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری کی تردید کردی -
The news is by your side.

Advertisement

پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کے وارنٹ گرفتاری کی تردید کردی

بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شریک ملزمان کے ناقابلِ گرفتاری وارنٹ جاری کردیے ہیں

 

کراچی: منی لانڈرنگ کیس میں بینکنگ کورٹ نے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری سمیت دیگر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، سینئر وکیل فارو ق ایچ نائیک نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آٓصف علی زرداری کے وارنٹ جاری ہونے کی تردید کردی۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے مقدمے میں ملوث ،مفرور ملزمان کو گرفتار کرکے 4 ستمبر کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا ہے، سابق صدر کی ہمشیرہ اسی مقدمے میں فریال تالپور ضمانت پر ہیں لہذا انہیں حراست میں نہیں لیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اورسینئر وکیل فاروق ایچ نائیک نے آصف علی زرداری کے وارنٹ جاری ہونے کی تردید کردی، ان کا کہنا ہے کہ عدالت نے آصف علی زرداری کے وارنٹ جاری نہیں کیے، میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔

پیپلز پارٹی فرحت اللہ بابر نے بھی وکیل فارق ایچ نائیک کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری کےوارنٹ گرفتاری سےمتعلق چلائی جانےوالی خبریں بے بنیاد ہیں۔

واضح رہے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر نے کی خبریں سامنے آئیں تھیں ۔مقدمے میں شریک دیگر ملزمان میں نمرمجید،اسلم مسعود،عارف خان،نصیرعبداللہ حسین لوتھا،عدنان جاوید، عمیر،اقبال آرائیں ، اعظم وزیرخان،مصطفی ذوالقرنین ودیگرکےنام شامل ہیں۔

ملزمان کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں رپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے اور ایف آئی اے نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ ملزمان جو تحقیقات کے لیے پیش نہیں ہورہے ہیں، ان کے وارنٹ جاری کیے جائیں ،اس سلسلے میں حسین لوائی ، طحہٰ رضا ، انور مجید اور عبد الغنی پہلے ہی گرفتار کیے جاچکے ہیں، اومنی گروپ کے مالک انور مجید اور عبد الغنی کو گزشتہ روز ایف آئی اے کی کسٹڈی میں اسلام آباد سے کراچی منتقل کیا گیا تھا۔

اے آروائی نیوزکے بیورو چیف اسلام آباد صابر شاکر کے مطابق وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد ایف آئی اے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سابق صدر سمیت دیگر ملزمان کو کسی بھی وقت حراست میں لے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق صدر کے پاس صرف ایک آپشن ہے کہ وہ ہائی کورٹ سے راہداری ضمانت حاصل کرلیں۔ اگر وہ یہ ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ضمانت بینکنگ کورٹ تک پہنچنے تک کارآمد رہے گی اس کے بعد بینکنگ کورٹ کو اختیار ہوگا کہ وہ ملزمان کی ضمانت منظور کریں یا انہیں گرفتار کرنے کا حکم صادر کریں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حسین لوائی کی گرفتاری کے بعد  سیکیورٹی ایسکچینج کمیشن پاکستان نے پاکستان سیکیورٹی ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے حسین لوائی کو عہدے سے برطرف کرنےکی ہدایت اورنوٹی فکیشن جاری کیا تھا،  جس کے مطابق انہیں ایس ای سی پی کے قانون 2015 کے سیکشن 12 اور انڈر سیکشن 170  عہدے سے برطرف کیے جانے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ الیکشن کے تین دن بعد منی لانڈرنگ کیس میں پیپلزپارٹی کی رہنما فریال تالپورعدالت میں پیش ہوئی تھیں اورانہوں نے بیکنگ کورٹ میں 20 لاکھ روپے زرضمانت جمع کراکر اپنے لیے ضمانت حاصل کی تھی۔

 اس سے قبل 12 جولائی کو سپریم کورٹ میں مبینہ جعلی اکاؤنٹس سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نےحکم دیا تھا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کوالیکشن تک نہ بلایا جائے۔

دوسری جانب نیب لاہور نے آج منی لانڈرنگ کیس میں کاروباری شخصیت میاں منشا کو بھی طلب کیا، نیب حکام کے مطابق میاں منشا کو کہا گیا ہے کہ وہ 2010 میں لندن میں خریدے گئے ہوٹل کی تفصیلات مہیا کریں، جبکہ منی لانڈرنگ سے متعلق مزید پوچھ گچھ بھی کی جائے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں