The news is by your side.

Advertisement

وہ بارونق اور شاد آباد شہر جو جدال و قتال کی نذر ہوگیا

وہ قبلِ مسیح کا زمانہ تھا جب کسینوفون نے زندگی کا لطف لیا اور موت کا ذائقہ چکھا۔ محققین کی کھوج بتاتی ہے کہ وہ یونان کا باسی تھا۔ اس کی زندگی کا سفر 430 سے 354 قبلِ مسیح تک جاری رہا اور آج ہم اسے ایک یونانی مؤرخ اور نثر نگار کے طور پر جانتے ہیں۔

تاریخ کے اس کردار کی زندگی کا تعاقب کرنے والے ماہرین نے قدیم مخطوطات، الواح اور مختلف آثار کی مدد سے جانا کہ کسینوفون سپاہ گری میں ماہر تھا۔ جوانی میں اُن اجرتی سپاہیوں میں شامل ہو گیا تھا جنھیں ایک ایرانی شاہ زادے نے اپنے بھائی کو شکست دے کر تخت و تاج حاصل کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا، لیکن شاہ زادے کو شکست ہوئی اور بڑی تعداد میں اس کے بھرتی کردہ سپاہیوں کی موت کے بعد باقی ماندہ یونانی نے کسینو فون کی قیادت میں‌ اپنے وطن کا رخ کیا اور طویل سفر اور خطروں کا مقابلہ کرتے ہوئے وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے۔

اس خطرناک مہم کی روداد کسینوفون نے “اناباسیس” نامی کتاب میں رقم کی۔ اسے بجا طور پر ایک اہم اور قابلِ ذکر تصنیف سمجھا جاتا ہے۔ واپسی کے اسی سفر کے دوران ان کا گزر‌ دو ایسے شہروں سے ہوا جن کا تذکرہ اس مؤرخ نے اپنی مذکورہ کتاب میں کیا ہے۔

کسینوفون لکھتا ہے: “چلتے چلتے یونانی دریائے دجلہ کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں انھوں نے ایک بہت بڑا شہر دیکھا جو ویران پڑا تھا۔ شہر کا نام لاربسا تھا۔ چھے میل پر پھیلے ہوئے شہر کی فصیلیں پچیس فٹ چوڑی اور سو فٹ بلند تھیں۔ فصیلوں کو دھوپ میں سکھائی ہوئی اینٹوں سے تعمیر کیا گیا تھا۔ فصیلوں کے نیچے بیس فٹ کی سنگی بنیاد تھی۔”

اس کے بعد یونانیوں کا ایک اور شہر سے گزر ہوا۔ لاربسا سے چل کر اٹھارہ میل آگے، میس پیلا نامی آبادی کے قریب، ایک اور بہت بڑا فلدینہ شہر ملا۔ وہ بھی ویران پڑا تھا۔ فصیلوں کی بنیاد میں چمکائے ہرے پتھروں سے کام لیا گیا تھا جن میں سیپیاں نظر آ رہی تھیں۔ یہ بنیاد پچاس فٹ چوڑی اور پچاس فٹ اونچی تھی۔ اس کے اوپر خشتی فصیل تھی جو پچاس فٹ چوڑی اور سو فٹ اونچی تھی۔ شہر کا گھیر تقریباً اٹھارہ میل تھا۔ اتنے مہیب قلعہ بند شہر یونانیوں نے کبھی نہ دیکھے تھے۔ آس پاس رہنے والے دیہاتیوں نے بتایا کہ یہ قلعے ماد نامی قوم نے تعمیر کیے تھے۔

اصل میں ان دیہاتیوں کو شہروں کی حقیقت کا کچھ علم نہ تھا۔ یہ دونوں قلعہ بند شہر اشوریوں کے تھے۔ خیال ہے کہ میس پیلا کے قریب جس شہر کے کھنڈر تھے وہ نینوا تھا اور دو سو سال پہلے تباہ ہوا تھا۔

اشوری فوج اپنی جنگی مہارت اور نظم و ضبط کے لحاظ سے مشرقِ وسطی میں بے مثال تھی۔ میدانِ جنگ میں اس کی رستمی کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی اور فسادات اور خون ریزی اس کی گھٹی میں پڑی تھی۔

کسی عظیم سلطنت کو دوام حاصل نہیں ہوتا۔ بابل کی تباہی کے کوئی اسّی سال بعد ماد قوم نے بابل والوں اور بعض دوسرے وحشی قبائل کو ساتھ ملا کر نینوا پر چڑھائی کر دی۔ تین مہینے تک محاصرہ کیے رکھا۔ خوب جدال و قتال ہوا۔ آخر اشوریوں کو شکست ہوئی اور نینوا اور اس کے شہریوں کے ساتھ وہی سلوک کیا گیا جو اشوری اپنے مفتوحین کے ساتھ کرتے آئے تھے۔

شہر ایسا اجڑا کہ پھر نہ بسا۔ طرفہ عبرت یہ کہ آس پاس بسنے والوں کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ یہ خرابہ کبھی اشوریوں کی سلطنت کا بارونق اور شاد آباد صدر مقام تھا جہاں کم و بیش لاکھ آدمی رہتے تھے۔

پہلے وقتوں میں شاید لوگوں کو دو سو سال پرانے واقعات صحیح طور پر یاد نہ رہتے ہوں! سچ پوچھیے تو ہمیں بھی موئن جوڈارو اور ہڑپا کو آباد کرنے والوں کا کیا پتا ہے۔ وہ کون تھے، کیا کہلاتے تھے اور ان کے شہر کیوں اجڑے؟

یہ ضرور ہے کہ ہمیں ساڑھے چار ہزار سال بعد ان کا سراغ ملا۔ اس لیے ہماری لاعلمی قابلِ معانی ہے۔ لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی ایسی سلطنت کو، جس کی کبھی اتنی دہشت رہی تھی، صرف دو سو سال میں بالکل فراموش کر دیا گیا۔ یہ حیرت سے زیادہ حیرت کا مقام ہے۔

(محمد سلیمُ الرّحمٰن کے مضمون سے خوشہ چینی)

Comments

یہ بھی پڑھیں