تازہ ترین

پاکستان پر حملہ آور ایک اور افغان دہشت گرد بے نقاب

پاکستان پر حملہ آور 1 اور افغان دہشتگرد بے...

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 21 نشستوں پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ جاری

اسلام آباد: قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 21 نشستوں...

’پاکستان کیلیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اچھی خبریں آئیں گی‘

امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا...

پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا اہم بیان

اسلام آباد : پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے...

ملازمین کے لئے خوشخبری: حکومت نے بڑی مشکل آسان کردی

اسلام آباد: حکومت نے اہم تعیناتیوں کی پالیسی میں...

عمران خان کی 8 مقدمات میں عبوری ضمانت میں 8 جون تک توسیع

اسلام آباد : اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 8 مقدمات میں  سابق وزیراعظم عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 جون تک توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے کیسز کی سماعت ہوئی، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے سماعت کی۔

وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ عمران خان کے خلاف 8کیسزہیں، جے آئی ٹی ٹیم عمران خان کو شامل تفتیش کر چکی ہے، ہم پرصرف109کاالزام ہے، جس پر جج نے ریمارکس دیئے آپ صرف ابھی تک ایک مقدمےمیں شامل تفتیش ہوئےہیں۔

وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ تمام مقدمات میں جوائنٹ انویسٹی گیشن بنائی گئی ہے، جے آئی ٹی بنی اور ہم شامل تفتیش ہو گئے ہیں ، انا کا مسئلہ نہیں ہے، لاہور اےٹی سی نےتفتیشی سے کہا جو پوچھنا ہے ابھی پوچھ لیں ، یہاں بھی اگر کوئی اضافی سوالات ہیں تو جواب دینے کو تیارہیں۔

سلمان صفدر نے بتایا کہ عمران خان اوربشریٰ بی بی کو ابھی نیب میں بھی پیش ہونا ہے، اسلام آبادہائیکورٹ میں8جون کی تاریخ ہے، گزارش ہے تمام مقدمات میں ایک ہی دن دلائل دینے کی اجازت دی جائے۔

جس پر عدالت نے کہا کہ آپ ایک کیس میں تو دے ہی سکتے ہیں، عمران خان شامل تفتیش ہوچکے ہیں، وکیل نے بتایا کہ ہم نے نیب میں بھی پیش ہونا ہے، عمران خان کی اہلیہ بھی ساتھ ہیں،عدالت اجازت دے تو آئندہ سماعت پر دلائل دوں گا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ 4 کیسز میں جے آئی ٹی بنی ہے، انہوں نے جے آئی ٹی کو انویسٹی گیشن کیلئے جوائن نہیں کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انویسٹی گیشن جوائن کرنے کا کہا، عمران خان کی جانب سے جواب آیا کہ ٹانگ ٹھیک نہیں، ضمانت قبل از گرفتاری کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کہ انویسٹی گیشن کو جوائن کیا جائے۔

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے ہائی کورٹ نے کہا کہ انہوں نے نہیں آپ نے انویسٹی گیشن کیلئے جانا ہے، کیا آپ نے عمران خان کو سوالنامہ دیا۔

وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ لارجر بینچ کے حکم پر جے آئی ٹی زمان پارک آئی، ایک شخص نے جانا ہو تو اس کے خزانے پر کیا اخراجات آتے ہیں ، اگر جے آئی ٹی آتی ہے تو اس کے اخراجات کیا ہونگے ،درخواست گزارکو سیکیورٹی خدشات ہیں۔

جج راجہ جواد عباس نے سوال کیا کہ 2دن عمران خان تحویل میں تھے تب آپ کہاں تھے، لاہور کی جے آئی ٹی زمان پارک جاکر تفتیش کرسکتی ہے تو اسلام آباد کی جے آئی ٹی کیوں نہیں۔

وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان پر 160 مقدمات ہو چکے ہیں، انویسٹی گیشن آفیسر اپنی کرسی سے اٹھنے کو تیار نہیں، ایک بیان ہی تو ریکارڈ کرنا ہے، سوالنامہ دیں ہم3دن میں جواب دے دیں گے، سامنے بیٹھ کر کونسی چائے پینا ہے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8جون تک توسیع کردی۔

Comments

- Advertisement -