The news is by your side.

Advertisement

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملہ کرنے والے اراکین کی رکنیت معطل کرنے پر غور

لاہور: ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملہ کرنے والے اراکین کی رکنیت معطل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کرنے والے اراکین کی رکنیت معطل کرنے پر غور شروع ہو گیا ہے، حملہ کرنے والے ارکان آج کے اجلاس کی کارروائی کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔

ذرائع کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد تازہ صورت حال پر بریفنگ دی، ڈپٹی اسپیکر نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے اور اعلیٰ عدلیہ کو صورت حال سے آگاہ کرنے پر مشاورت کی۔

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب کو ایک خط لکھ کر کہا ہے کہ تشدد میں ملوث ارکان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، اور مزید پولیس اہل کار اسمبلی میں تعینات کیے جائیں۔

ڈپٹی اسپیکر نے خط میں لکھا ہے کہ انھیں عمر بٹ، واثق عباسی، ندیم قریشی اور شجاع نواز نے تشدد کا نشانہ بنایا، انھوں نے لکھا میں نے ہائیکورٹ کے حکم پر اجلاس کی صدارت کی لیکن حکومتی ارکان نے تشدد کا نشانہ بنایا، اور زود و کوب کر کے اجلاس میں امن و امان کو سبوتاژ کیا گیا۔

واضح رہے کہ آج پنجاب اسمبلی میں صورت حال اس وقت سخت کشیدہ ہو گئی جب ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کو ایوان میں داخل ہونے کے بعد پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کے بال کھینچے گئے، اور تھپڑ مارے گئے۔

حکومتی ارکان کا ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حملہ ، لوٹے دے مارے

پنجاب اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی کی گئی، پی ٹی آئی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پر حملہ کیا، دھکے مارے گئے، لوٹے بھی پھینکے گئے، جس پر سیکیورٹی اہل کار ڈپٹی اسپیکر کو واپس لے کر چلے گئے۔

ایوان کے اندر حالات کشیدہ ہونے کے بعد سادہ لباس اہل کار پنجاب اسمبلی میں موجود رہے، اینٹی رائٹ فورس کے دستے بھی اندر پہنچ گئے۔ پی ٹی آئی ارکان نے منحرفین کی آمد پر لوٹے لوٹے کے نعرے لگائے، ایوان میں لوٹے بھی اچھالے گئے، اور اسپیکر ڈائس پر بھی لوٹا رکھا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں