The news is by your side.

Advertisement

والدین متوجہ! بچوں میں کرونا علامات کے حوالے سے اہم دریافت

اوٹاوا: کینیڈا میں ہونے والی طبی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بچوں میں بخار، متلی، قے، سونگھنے یا چکھنے کی صلاحیت سے محرومی کرونا کی عام علامات تو ہیں لیکن زیادہ تر بچوں میں یہ ظاہر نہیں ہوتیں۔

تفصیلات کے مطابق البرٹا یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں کرونا کے شکار جن بچوں کو شامل کیا گیا ان کی ایک تہائی میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں جس سے یہ اخذ کیا گیا کہ چونکہ ایک تہائی سے زائد بچوں میں کسی قسم کی علامات نہیں تھیں، تو اس وبائی بیماری کے شکار بچوں وائرس کی شناخت کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

محققین نے کرونا علامات سے متعلق جانچ کے لیے 13 اپریل اور 30 ستمبر کے دوران البرٹا پبلک ہیلتھ میں آنے والے بچوں کی علامات کو دیکھا جن کے کووڈ ٹیسٹ ہوئے تھے، اس دوران کرونا کے شکار بچوں کی علامات کا موازنہ ان بچوں سے کیا گیا جن کا کرونا منفی آیا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ 36 فیصد متاثرہ بچوں میں کسی قسم کی علامات نہیں تھیں۔

اس تحقیق کے دوران جن متاثرہ بچوں میں کرونا علامات ظاہر ہوئیں اس کی تفصیلات کچھ یوں ہیں، 25.5 فیصد بچوں کو بخار یا ٹھنڈ لگنے، 24.5 فیصد کو کھانسی اور 19 فیصد کو ناک بہنے کی شکایت تھی، ماہرین کو خدشہ ہے کہ درحقیقت بغیر علامات والے کرونا کے شکار بچوں کی تعداد نتائج میں رپورٹ کردہ تعداد سے زیادہ ہوگی، کیونکہ وہ ٹیسٹنگ کے لیے آئے ہی نہیں ہوں گے، ایسی صورت حال کا سامنا بڑوں کو بھی ہوتا ہے۔

بچوں میں کرونا کی شرح کم اور بیماری کی شدت معمولی کیوں ہوتی ہے؟

ماہرین نے بتایا کہ وہ بچے جو انفلوئنزا کا شکار ہوجائیں ان میں کرونا کی تشخیص کا امکان کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں اسکولوں اور والدین کو مشورہ دیا گیا کہ بخار، سردرد، قے، متلی اور سونگھنے یا چکھنے کی حسوں سے محرومی کی علامات کو اسکریننگ کے عمل کا حصہ بنائیں تاکہ بیماری کو روکا جاسکے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شایع ہوچکی ہے۔

مشاہدے کے دوران انفلوئنزا کا شکار بچوں میں فلو کی علامات تو تھیں لیکن ان کا کرونا ٹیسٹ منفی رہا۔ تحقیق میں شامل 25 فیصد بچوں میں کھانسی، 22 فیصد ناک بہنا، جبکہ 15 فیصد بخار یا ٹھنڈ لگنے کی علامات تھیں اور ان بچوں کے کرونا رپورٹس منفی آئی تھیں۔ 4 سال یا اس سے کم عمر بچوں میں ٹیسٹ نیگیٹو رہنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں