تازہ ترین

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 21 نشستوں پر ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ جاری

اسلام آباد: قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 21 نشستوں...

’پاکستان کیلیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے اچھی خبریں آئیں گی‘

امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے کہا...

پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا اہم بیان

اسلام آباد : پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے...

ملازمین کے لئے خوشخبری: حکومت نے بڑی مشکل آسان کردی

اسلام آباد: حکومت نے اہم تعیناتیوں کی پالیسی میں...

ضمنی انتخابات میں فوج اور سول آرمڈ فورسز تعینات کرنے کی منظوری

اسلام آباد : ضمنی انتخابات میں فوج اور سول...

مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ ، آج سنائے جانے کا امکان

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی ، بینچ میں جسٹس اعجاز الااحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس شاہد وحید ،جسٹس حسن اظہر رضوی شامل تھے۔

سپریم کورٹ نے دلائل کے بعد مبینہ آڈیو لیکس کمیشن کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اس حوالےسے مختصر اورعبوری حکم جاری کریں گے، آپ نے ججز کے حوالے سے ایک بورڈ یا کمیشن بنا دیا، یہ ممکن نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بات کھل کرقانون میں نہیں دی گئی ہوتی،آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوتا ہے، آرٹیکل 175 کوکسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ میں تقسیم کی کوشش نہیں کی تو چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگر نہیں کی تو بھی ایسا ہوا ضرور، فل کورٹ کی استدعا خود عدلیہ اصلاحات بل کیخلاف ہے، اٹارنی جنرل نفیس آدمی ہیں آپ کا اور حکومت کا احترام کرتےہیں، اب شدت سےسب کو احساس ہو رہا ہے اداروں کا احترام ضروری ہے،عدلیہ سے متعلقہ معاملہ متعلقہ کوارٹر سے ڈیل کیا کریں۔

اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے مکالمے میں کہا کہ آڈیو لیک کمیشن کی تشکیل میں مشاورت کا حصہ نہیں تھا، معاملہ آپ سے متعلقہ تھا اس لئے سینئر جج کو کمیشن کا سربراہ بنایا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے چیف جسٹس ادارےکا سربراہ ہوتا ہے۔

وکیل عابد زبیری شعیب شاہین نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر پر ہیکر کے نام سے گمنام اکاؤنٹ ہے، ہیکر کے نام سے اکاؤنٹ سے آڈیو ویڈیو ریلیز ہوتی ہیں، یہ اکاؤنٹ ستمبر 2022 میں بنایا گیا، فروری 2023 سے گمنام اکاؤنٹ سے آڈیو ویڈیوز لیک ہوئی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ آڈیو لیک ہونے کے بعد وفاقی وزرااس پر پریس کانفرنسز کرتے ہیں، ساری آڈیو ایک ہی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری ہوتی ہے، ہماری درخواست کمیشن کی تشکیل کیخلاف ہیں، کمیشن کی تشکیل میں چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی۔

وکیل ،شعیب شاہین نے دلائل میں مزید کہا کہ کمیشن نے پورے پاکستان کو نوٹس کیا کہ جس کےپاس مواد ہے وہ جمع کرا سکتا ہے، کوئی قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔

جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے کہا کمیشن کا قیام آرٹیکل 209کی بھی خلاف ورزی ہے تو وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ افتحار چوہدری ،جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فیصلے دے چکی۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے آرٹیکل 209 کواجازت دیتاہے صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کوبھیج سکتی ہے،بظاہر وفاق نے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججز کیخلاف مواد اکٹھا کرکےمس کنڈیکٹ کیا، وفاقی حکومت نے آئین میں اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی کی۔

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا کہ لگتا ہے انکوائری کمیشن نے ہر کام جلدی کیا ہے، ججز اپنی مرضی سے کیسے کمیشن کا حصہ بن سکتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کیخلاف چیف جسٹس کی اجازت سےکسی بھی فورم پرجاسکتےہیں،میٹھے الفاظ استعمال کر کے کور دینے کی کوشش کی جارہی ہے،بظاہر اختیارات کی تقسیم کےآئینی اصول کی سنگین خلاف ورزی کی گئی ہے، یہ انتہائی پریشان کن صورتحال ہے۔

اس سے قبل سماعت کے آغاز میں اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے بینچ سے الگ ہونے کی درخواست کی ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کیسے سپریم کورٹ ججز کو اپنے مقاصد کیلئے منتخب کر سکتی ہے، اٹارنی جنرل صاحب عدلیہ کی آزادی کامعاملہ ہے، بہت ہوگیا اٹارنی جنرل صاحب آپ بیٹھ جائیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ افسوس سےکہنا پڑ رہا ہےغیر ارادی طور پر کوشش کی گئی کہ ججز میں دراڑ ڈالی جائے لیکن 9مئی کے سانحے کےبعدعدلیہ کےخلاف بیان بازی بند ہوگئی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہا کہ آپ ہمارےانتظامی اختیار میں مداخلت نہ کریں، ہم حکومت کا مکمل احترام کرتے ہیں، عدلیہ بنیادی انسانی حقوق کی محافظ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں مزید کہا کہ حکومت نے چیف جسٹس کے اختیارات کوریگولیٹ کرنے کی قانون سازی جلدی میں کی، حکومت ہم سےمشورہ کرتی توکوئی بہتر راستہ دکھاتے، آپ نے ضمانت اورفیملی کیسزکو بھی اس قانون سازی کاحصہ بنادیا۔

چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمے میں کہنا تھا کہ حکومت کسی جج کواپنی مرضی کےمطابق بینچ میں نہیں بٹھاسکتی ، ہم نے سوال پوچھا 184 بی میں لکھا ہےکم از کم 5 ججز کا بینچ ہو، اگر آپ نے ہم سےمشورہ کیا ہوتا توہم آپ کوبتاتے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 9مئی کےواقعات کا فائدہ یہ ہوا جوڈیشری کیخلاف جو بیان بازی ہو رہی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔

جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بہت ادب سے استدعا ہےکہ لارجر بینچ یہ کیس نہ سنے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شعیب شاہین نے دلائل میں سپریم کورٹ کے پرانے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حاضر سروس جج کی تعیناتی سےپہلےچیف جسٹس کی مشاورت ضروری ہے، کسی پرائیویٹ شخص کو بھی کمیشن میں لگانے سے پہلے مشاورت ضروری ہے، یہ جوڈیشل کارروائی ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملے کی وضاحت دی جا سکتی ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت عدلیہ کے معاملات میں کوارٹرز کا خیال کرے، انکوائری کمیشن میں حکومت نے خود ججز تجویز کئے، اس سے پہلے 3 نوٹیفکیشن میں حکومت نے ججز تجویز کئےجنہیں بعدمیں واپس لیاگیا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایکٹ 2017 کو چیلنج نہیں کیا گیا تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 1956ایکٹ آئین کے احترام کی بات کرتا ہے اس نکتے پر بعد میں آئیں گے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اس نکتے پر ابھی تیار ہیں۔

سپریم چیف جسٹس نے وفاقی حکومت سے گزارش کی کہ آئین کا احترام کریں اور آئین کا احترام کرتے ہوئے روایات کے مطابق عمل کریں، معذرت سے کہتا ہوں حکومت نے ججز میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے سپریم کورٹ اختیارات سےمتعلق قانون میں حکومت نے 5ججز کے بینچ بنانےکا کہہ دیا، نئے قانون میں اپیل کیلئے پانچ سے بھی بڑا بینچ بنانے کا کہہ دیا، ہمارے پاس ججز کی تعداد کی کمی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جلد بازی میں عدلیہ سےمتعلق قانون سازی کی ،حکومت قانون ضرور بنائے لیکن مشاورت کرے ، حکومت بتائے سپریم کورٹ سےمتعلق قانون سازی پرکس سے مشورہ کیا ، ہم سے مشورہ کرتےتو ضرور مشورہ دیتے۔

جس پر اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے مکالمے میں کہا کہ ان تمام امور کا حل ہو سکتا ہے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے حکومت مسائل حل کرے تو ہم بھی ریلیف دیں گے، سپریم کورٹ کے انتظامی امور میں پوچھے بغیر مداخلت ہوگی تو یہ ہوگا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ ہمیں احساس ہے کہ آپ حکومت پاکستان کے وکیل ہیں ، تمام اداروں کو مکمل احترام ملنا چاہیے،
یہ سب انا کی باتیں نہیں، آئین اختیارات تقسیم کی بات کرتا ہے، عدلیہ وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ، ہم انا کی نہیں آئین کی بات کررہے ہیں۔

Comments

- Advertisement -