The news is by your side.

Advertisement

مسلم مخالف بیان، ’سینیٹر فریزراینیگ اس قابل نہیں کہ وہ آسٹریلیا کی نمائندگی کرے‘

سڈنی: مسلم مخالف بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر پر اُن کی ساتھی نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان میں ایسے شخص کی موجودگی ہم سب کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا میں سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں خطاب کی اجازت ملنے کے بعد خاتون سینیٹر سیرہ نے مسلم مخالف بیان دینے والے سینیٹر فریزر اینیگ پر شدید تنقید کی۔

سینیٹر سیرہ مینگ نے اپنے ساتھی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’ایوان میں ایسے شخص کی موجودگی ہم سب کے لیے شرمندگی کا باعث ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ سانحہ کرائسٹ چرچ میں لوگوں کی زندگی ختم ہوگئی یہ کوئی مذاق بات نہیں اور یہاں بیٹھا ایک شخص کھل کر نفرت کا اظہار کررہا ہے، ایسے شخص کی باتوں پر ہنسنے کی ضرورت نہیں، انسانی جانوں کا ضیاع کوئی مذاق بات نہیں جو لوگ اُس یا میرے بیان پر ہنس رہے ہیں’۔

مزید پڑھیں: سانحہ نیوزی لینڈ: ایگ بوائے کا ہزاروں ڈالرز کی رقم شہدا کے اہل خانہ کو دینے کا اعلان

سینیٹر سیرہ نے ایوان میں بیٹھے ساتھیوں سے سوال کیا کہ ’کیا آپ کو ایسا بیان مذاق لگ رہا ہے؟، ایسے بیانات مکمل ذلت کی عکاسی کرتے ہیں، سینیٹر فریزر اینیگ کو کوئی حق نہیں کہ وہ تنقید کرسکے، ہمیں متاثرین کے ساتھ اُس مقام پر کھڑا ہونا چاہیے تھا۔

انہوں نے سینیٹر فریزر اینیگ کے مسلم مخالف بیان کو نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں متاثرین سے معافی مانگنی چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جو نیوزی لینڈ میں 15 مارچ کو دہشت گردی ہوئی آسٹریلیا نے اُس کا سامنا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام مخالف سینیٹر کو پارلیمنٹ سے نکالنے کی دستخطی مہم، 24 گھنٹوں میں 10 لاکھ افراد نے حصہ لیا

سیرہ کا مزید کہنا تھا کہ ’سینیٹر فریزر اینیگ اس قابل نہیں کہ وہ آسٹریلوی شہریوں کی نمائندگی کرسکے، ایسے شخص کو اپنے آپ کو آسٹریلوی بھی نہیں کہنا چاہیے، ایسا آدمی ہمارا نہیں ہے’۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں