The news is by your side.

Advertisement

مجھے ایوان میں اجنبی کیوں کہا گیا؟ استعفیٰ نہیں دوں گی، عائشہ گلالئی

اسلام آباد : تحریک انصاف سے منحرف ہونے والی خاتون رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے کہا ہے کہ میں ایوان میں میرٹ پر ہوں، اپنی نشست سے استعفیٰ نہیں دوں گی، میرےخلاف بات کرنے پر تحریک استحقاق پیش کروں گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کیا، عائشہ گلالئی کا کہنا تھا کہ میری پریس کانفرنس کو غلط سیاسی رنگ دیا گیا، حق کی بات کرتی رہوں گی، ایم این اے ہونے پر فخر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں رشتے داری کی بنیاد پرسیٹیں دی گئیں میں میرٹ پر ہوں، جس قوم کیلئے بہنوں کی عزت کی اہمیت نہ ہو اس کو زوال سے نہیں بچایا جاسکتا۔

عائشہ گلالئی کے خطاب کے دوران ایوان مچھلی بازارکا منظر پیش کرنے لگا، پی ٹی آئی رہنما کھڑے ہوگئے، خواتین ارکان ڈیسکیں بجاتی رہیں، اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے بارباراحتجاج کرنے والوں کوخاموش رہنے کی ہدایت کی جاتی رہی لیکن شور شرابا جاری رہا۔

شور شرابے کے باوجود عائشہ گلالئی نے اپنا خطاب جاری رکھا، انہوں نے مزید کہا کہ میرے خلاف بات کرنے پر تحریک استحقاق پیش کروں گی، مجھے اس ایوان میں اجنبی کیوں کہا گیا؟

نوجوانوں کو دنیا کی کسی کتاب میں گالی گلوچ کی تربیت نہیں دی جاتی، پی ٹی آئی میں ہیں تو اچھے ہیں پارٹی چھوڑ دیں تو سوشل میڈیا بریگیڈ حملہ کردیتی ہے، میری بہن پر تنقید کی گئی جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف سے نکلتے ہی مجھے قتل اور تیزاب پھینکنے کی دھمکیاں دی گئیں، میرے گھر والوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے لیکن میں کسی دھمکی سے ڈرنے والی نہیں نہ میرا خاندان ڈرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے میں گزشتہ چار سال سے احتساب کمیشن کسی سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کرسکا، دوسروں پر تنقید کرنے والے عمران خان خیبرپختونخوا میں بڑی مچھلیوں سے کیوں احتساب شروع نہیں کرتے؟

انہوں نے کہا کہ کوئی مفاد نہ دیکھیں، کردار پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، تعلیم یافتہ، مہذب پاکستان چاہتی ہوں، میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو مبارکباد نہیں دے سکی، اظہار یکجہتی کرنے والی سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں