اعظم سواتی کا تحریری استعفیٰ سامنے آ گیا
The news is by your side.

Advertisement

اعظم سواتی کا تحریری استعفیٰ سامنے آ گیا

اسلام آباد: اعظم سواتی نے اپنے تحریری استعفیٰ میں کہا کہ ملک میں عدالتی نظام کی بالادستی کے لیے استعفیٰ دے رہا ہوں، وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان اپنا اصل مقام پھر حاصل کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق اعظم سواتی کا تحریری استعفیٰ سامنے آ گیا ، تحریری استعفیٰ میں اعظم سواتی نے کہا ملک میں عدالتی نظام کی بالا دستی کے لیےاستعفیٰ دےرہاہوں، آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس میں میرے خلاف از خود نوٹس لیاگیا،وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان اپنا اصل مقام پھرحاصل کرے گا۔

ملک میں عدالتی نظام کی بالادستی کے لیے استعفیٰ دے رہا ہوں

یاد رہے اعظم سواتی نے 6 دسمبر کو اپنا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو پیش کیا تھا اور کہا تھا جب تک آئی جی تبادلہ کیس کا فیصلہ نہیں آتا حکومت کاحصہ نہیں رہوں گا۔ 

وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ قبول کرنےکی درخواست کی ہے ، جب تک آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کا فیصلہ نہیں آجاتا حکومت کاحصہ نہیں رہوں گا۔

مزید پڑھیں : آئی جی تبادلہ کیس : وفاقی وزیر اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفی

اعظم سواتی کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وزارت کا قلمدان پاس نہیں رکھ سکتا، اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مستعفی ہورہا ہوں، مستعفی ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں مقدمے کا دفاع کروں گا۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے استعفیٰ ٰقبول کرلیا تھا۔

خیال رہے اعظم سواتی کیخلاف سپریم کورٹ میں آئی جی تبادلہ کیس زیرسماعت ہے، رواں ماہ 7 نومبر کو اعظم سواتی کے غریب خاندان سے جھگڑے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو تحقیقات کے لیے دس ٹی او آرز دیتے ہوئے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کی تھی۔

جے آئی ٹی نے معاملے کی تحقیقات کے بعد مرتب کی جانے والی رپورٹ میں اعظم سواتی کو واقعے میں قصور وار قرار دیا تھا۔ گزشتہ بدھ کے روز سپریم کورٹ میں آئی جی تبادلہ کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے اعظم سواتی پر آرٹیکل 62ون ایف کا اطلاق کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں