The news is by your side.

Advertisement

آذربائیجان کی فتح پر امریکا سیخ پا، ترکی کو دھمکی

برسلز: امریکا نے آذر بائیجان کا ساتھ دینے پر ترکی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کاراباخ تنازع میں آذربائیجان کا ساتھ دینا ترکی کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔

برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر برائے نیٹو ہوشنسن کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحادی ہونے کے ناطے ترکی کو کاراباخ کے معاملے پر آذربائیجان کی مدد سے گریز کرنا چاہیے تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ متنازع زمین کے معاملے پر آذر بائیجان کا ساتھ دینا ترکی کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے جبکہ قدرتی وسائل کی تلاش کے لیے یونان کے ساتھ ہونے والا سمندری تنازع بھی ترکی کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ترکی کو نیٹو کا حصہ رہتے ہوئے انتہائی محتاط رویہ اختیار کرنا ہوگا اور کسی بھی ملک کی حمایت سے گریز کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: مسجد میں27سال بعد اذان : آذربائیجان کے صدر نے درو دیوار چوم لیے

یاد رہے کہ آرمینیائی فوج نے آذربائیجان کی حدود میں آنے والے متنازع علاقے پر قبضے کی کوشش کی تھی جس پر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ آذربائیجان نے علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ ترکی نےکاراباخ تنازع پر آذربائیجان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور جنگی سامان بھی مہیا کیا تھا۔

امریکی سفیر نے ترکی کو یہ بھی دھمکی دی کہ اُسے روس کے ایئرڈیفنس سسٹم ایس 400 کی تنصیب پر دوبارہ غور کرنا اور معاہدے کو ختم کرنا ہوگا اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ترکی نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ نیٹو کا اتحادی رہتے ہوئے ترکی روس کا ایئرڈیفنس سسٹم نصب نہیں کرسکتا اگر ایسا کیا گیا تو یہ کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہوگا، اس حوالے سے امریکا پہلے بھی ترک حکام کو آگاہ کرچکا ہے۔

امریکی سفیر برائے نیٹو ہوشنسن کا کہنا تھا کہ ’امریکا نے ترکی کو ایئرڈیفنس نصب کرنے کے حوالے سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا، اب بھی ترکی کے پاس وقت ہے کہ وہ معاہدے کو فوراً ختم کردے ورنہ وقت ختم ہوجائے گا‘۔

یہ بھی پڑھیں: آرمینیا سے جنگ، آذربائیجان کی مدد کے لیے ترک جادوئی ڈرون

اسے بھی پڑھیں: کاراباخ تنازع: ترکی آذربائیجان کی کس طرح مدد کررہا ہے؟ صدر کا اہم بیان

واضح رہے کہ ترکی نے دسمبر 2017 میں سسٹم کی خریداری کے حوالے سے روس سے ڈھائی ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت روس کو سسٹم کے چار ڈویژن ترکی کو فراہم کرنا تھے، اس میں سے ہر سسٹم میں 9 میزائل لانچر موجود ہیں۔

روس نے یہ سسٹم ترکی کو 2019 میں فراہم کردیا تھا مگر اب تک اسے نصب نہیں کیا گیا، ایس 400 ملنے کے بعد امریکا نے ترکی کے ساتھ جنگی جہاز ایف 35 کی فروخت کا معاہدہ فوری طور پر ختم کردیا تھا۔

امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ’روس کا ڈیفنس سسٹم جنگی طیاروں کی ٹیکنالوجی کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔ اس ضمن نے کانگریس نے امریکی صدر ٹرمپ سے ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا اور  ایوان میں قرار داد بھی پیش کی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں