The news is by your side.

Advertisement

ماں کے بجائے ساتھیوں سے بولنا سیکھنے والے ننھے جاندار

جب بھی کوئی نئی حیات اس دنیا میں آتی ہے تو اس کا سب سے بڑا سہارا ماں ہوتی ہے۔ چاہے وہ انسان ہوں، جانور یا کوئی حشرات الارض۔ جیسے جیسے یہ ننھی حیات بڑی ہوتی جاتی ہے یہ سب کچھ اپنی ماں سے سیکھتی ہے جیسے چلنا، بولنا، اور بعد ازاں عادات و طور طریقے۔

لیکن آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اس دنیا میں ایک جاندار ایسا بھی ہے جو دنیا میں آنے کے بعد اپنی ماں سے بولنا نہیں سیکھتا بلکہ اپنے ساتھیوں سے بولنا سیکھتا ہے۔

وہ جاندار چمگادڑ ہے جس کے ننھے بچے الٹے لٹکے لٹکے اپنے آس پاس موجود دیگر چمگادڑوں سے بولنا سیکھتے ہیں۔

پی ایل او ایس بائیولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی مقالے میں کہا گیا کہ مختلف ممالک میں پائی جانے والی چمگادڑوں کے لہجے میں بھی معمولی سا فرق ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آس پاس کے ماحول اور دیگر افراد سے سیکھنے کی صلاحیت انسانوں میں تو موجود ہے تاہم انسانوں کے علاوہ دیگر ممالیہ جانوروں میں اس صلاحیت کی موجودگی پہلی بار سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھیں: اپنی ماں کو کھانے والے جاندار

تحقیق میں کہا گیا کہ اگر دو مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے چمگادڑوں کو ایک ساتھ رکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ نئی پیدا ہونے والی چمگادڑ اپنے ملک کے بجائے دوسرے ملک کی چمگادڑ کی زبان بولنے لگے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں