The news is by your side.

Advertisement

کورونا کی کارستانیاں، جاپانیوں کے لیے بری خبر

جاپان میں مشہور ریستوران چین ‘‘واتامی’’ نے کورونا کے سبب آمدنی متاثر ہونے کے باعث اپنے ایک تہائی ریستوران بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عالمی وبا کورونا کو دو سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے اس دوران اس سے تحفظ کے لیے متعدد ویکسینز بھی آگئیں اور کافی دنیا ویکسینیٹڈ ہوچکی لیکن ہر کچھ عرصے بعد ایک نئے روپ میں آنے والے اس وائرس نے نہ صرف دنیا کی معیشت کو تہہ وبالا کردیا ہے بلکہ اس حوالے سے ایک مستقل سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق جاپان میں کورونا کے باعث معاشی بحران سے دوچار مشہور ریستوران چین ‘‘واتامی’’ نے اپنے ایک تہائی ریستوران بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واتامی ملک بھر میں موجود اپنے 277سے زائد جاپانی طرز کے مے خانہ ریستورانوں میں سے تقریباْ 80 کو بند کرنے کا منصوبہ کررہی ہے، ان میں سے تقریباْ نصف سال رواں جب کہ بقیہ اگلے سال 2023 میں بند کیے جائیں گے۔

جاپان بھر میں کورونا وائرس کی طویل ہنگامی حالت نے اس کمپنی کی آمدنی پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں اور ریستورانوں سے اوقات کار میں کمی اور شراب فراہم نہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا واتامی کمپنی اپنے کاروبار میں تبدیلی لاتے ہوئے مزید اسی جاپانی طرز کے مے خانوں کو کوریائی طرز کے باربی کیو ریستوران یا سوشی ریستوران میں تبدیل کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔

جاپان فوڈ سروس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جاپان بھر میں ازاکایا اور دیگر مے خانوں کی آمدنی میں سنہ 2020کے مقابلے میں 42 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ آمدنی عالمی وبا سے قبل 2019 میں ہونے والی آمدنی کے مقابلے میں 72 فیصد کم تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں