سانحہ بلدیہ کو چھ سال بیت گئے، مقدمہ آج بھی عدالت میں زیر سماعت ہے -
The news is by your side.

Advertisement

سانحہ بلدیہ کو چھ سال بیت گئے، مقدمہ آج بھی عدالت میں زیر سماعت ہے

کراچی : پاکستان کے نائن الیون سانحہ بلدیہ کو چھ سال بیت گئے، جے آئی ٹی بنی، تحقیقات میں پیش رفت کے دعوے کیے گئے تاریخ پر تاریخ کے باوجود متاثرین کوآج تک انصاف نہ مل سکا۔

تفصیلات کے مطابق سانحہ بلدیہ فیکٹری کو6سال گزر گئے لیکن شہداء کے لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں، گیارہ ستمبر2012کو بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی سے خواتین سمیت دو سو ساٹھ مزدور زندہ جل گئے تھے، بعد میں انکشاف ہوا کہ ایک سیاسی جماعت نے بھتہ نہ ملنے پر فیکٹری کو آگ لگائی تھی۔

چھ سال بعد آج بھی سانحہ بلدیہ کا کیس عدالت میں زیرسماعت ہے اور ذمہ داروں کو سزا نہ مل سکی، جل کر راکھ ہونے والے259جسموں سے اٹھتا دھواں آج بھی فضا میں انصاف کا طلب گار ہے۔

آج سے چھ سال قبل آج ہی کی تاریخ میں یہ اندوہناک سانحہ پیش آیا، اپنے پیاروں کے زندہ جلنے کا غم میں ڈوبے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

گیارہ سمتبر دوہزار بارہ کی صبح کراچی بلدیہ میں واقع فیکٹری کے محنت کش یہ نہیں جانتے تھے کہ آج ان کا لاشہ گھر واپس لایا جائے گا۔ جلنے کی ناقابل برداشت بو پر کوئی پہچان بھی نہ پائے گا۔ بندہ خاکی راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔

مزید پڑھیں: رحمان بھولا کے سنسنی خیز انکشافات، سانحہ بلدیہ میں‌ قیادت ملوث تھی

تحقیقات میں ہولناک انکشاف ہوا کہ آگ لگی نہیں لگائی گئی تھی، وجہ بھتہ نہ ملنا تھا۔ تفتیش کا دائرہ آگے بڑھا تو ایک سیاسی جماعتوں سے وابستہ بڑے بڑے نام سامنے آئے گرفتاریاں بھی ہوئیں، جے آئی ٹی بنی لیکن لخت جگر کی جدائی پر آنسو بہاتی ماں کو انصاف ملا اور نہ ہی بڑھاپے کا سہارا چھن جانے پر باپ کا ہاتھ قاتلوں کے گریبان تک پہنچا۔

بیواؤں اور یتیموں کی چیخیں آج بھی فلک کو چیرتی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک دو نہیں درجنوں بے گناہوں کے خون کا حساب کس سے لیا جائے گا؟ کیس کی فائلوں پر پڑنے والی گرد کی تہیں موٹی ہوتی جارہی ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں