site
stats
پاکستان

شاہد مسعود پابندی کیس، پیمرا کے اعلیٰ افسر کو عدالتی معاونت کا حکم

اسلام آباد : پیمرا کی جانب سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود کو 45 دنوں تک بند کرنے کے خلاف ہائی کورٹ اسلام آباد میں دائر درخواست کی سماعت جسٹس گل اسد اورنگزیب نے کی ۔

اس موقع پر اے آر وائی نیوز کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں اپنے دلائل میں دیتے ہوئے کہا کہ پروگرام میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کسی پر واضح الزام نہیں لگایا تاہم پیمرا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود کو 45 دن تک بند کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں جو بذات خود پیمرا آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے۔

یہ خبر پڑھیں : پیمرا نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام لائیو ود شاہد مسعود پر پابندی لگا دی

وکیل فیصل چوہدری نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کی جانب سے پیمرا کی کونسل آف کمپلین میں کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی اس کے باوجود پیمرا کے کونسل آف کمپلین نے ازخود نوٹس لیتے پینتالیس دن تک پروگرام کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

یہ بھی پڑھیں : پیمرا الزامات ثابت کردے، شاہد مسعود کا چیلنج

اس موقع پر وکیل فیصل چوہدری نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے پیمرا پر دباوٴ ڈال کرڈاکٹر شاہد مسعود کا پروگرام بند کروایا ہے جبکہ پیمرا نے حکومتی دباوٴ میں آکر یہ قدم اٹھایاہے۔

اسی سے متعلق : شاہد مسعود پر پابندی، سیاسی رہنمائوں‌ کا اظہار مذمت،پی ایف یو جے کا اجلاس طلب

عدالت نے اے آر وائی کے وکیل کا موقف سننے بعد پیمرا کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر ڈائریکٹر کی سطح کے کسی افسر کو عدالتی معاونت کے لیے متعین کرے بعد ازاں کیس کی سماعت 17 اگست تک ملتوی کردی گئی۔

واضح رہے کہ پیمرا قوانین کے مطابق کسی شہری کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر ہی پر کونسل آف کمپلین کارروائی کرکے پروگرام کی بندش اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کرسکتی ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top