بنگلادیش میں طلبہ کی ہلاکت پر شدید احتجاج، پولیس کی مظاہرین پر شلینگBangladesh-protest
The news is by your side.

Advertisement

بنگلادیش میں طلبہ کی ہلاکت پر شدید احتجاج، پولیس کی مظاہرین پر شلینگ

ڈھاکا :  پولیس کی جانب سے طالب علموں کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے لاکھوں مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے، اب تک 115 طالب علم پولیس تشدد کی زد میں آکر زخمی ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز بنگلا دیش کے دارالحکومت میں واقع ڈھاکا یونیورسٹی کے 2 طالبِ علم گھر سے موٹرسائیکل پر مادرِ علمی آرہے تھے کہ انہیں گنجان آباد علاقے میں تیز رفتار بس نے ٹکر ماری۔

ٹریفک حادثے کے نتیجے میں دونوں طالبِ علم موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، یونیورسٹی کے ساتھیوں کو جب اس بات کا علم ہوا تو نوجوان سڑکوں پر نکلے اور انہوں نے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، دارالحکومت سے شروع ہونے والا احتجاج دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے ہر بڑے شہر میں پھیل گیا۔

پولیس کے مطابق تازہ حادثہ جمعے کے روز پیش آیا تاہم اُس سے پانچ روز قبل ڈھاکا یونیورسٹی کے ہی ایک طالب علم بس کی ٹکر لگنے سے جاں بحق ہوچکا ہے، ایک ہفتے میں تین نوجوانوں کی ہلاکت کے بعد طالبِ علموں میں شدید اشتعال پایا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ طلبہ کی جانب سے کیا جانے والا ملک گیر احتجاج آٹھویں روز بھی جاری ہے اور بنگلادیشی پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے لاکھوں طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔

بنگلادیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے اپنے ساتھیوں کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے ڈھاکا سمیت ملک بھر کی سڑکوں کو رکاوٹیں لگاکر بند کردیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مظاہرہ کرنے والے اسکول اور کالجز کے مشتعل طلبہ کی جانب سے ملک کا ٹرانسپورٹ کا قانون تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جنہوں نے 1 کروڑ 80 لاکھ نفوس پر مشتمل شہر ڈھاکا کو جام کررکھا ہے۔

بنگلادیش کی وزارت ٹرانسپورٹ کی جانب سے وفاق کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ ’ٹریفک حادثے کے ذمہ دارکو سزائے موت دینے کا قانون بنایا جائے‘۔ بنگلا دیش میں تاحال ٹریفک حادثے کے ذمہ دار کو تین برس قید کی سزا دینے کا قانون ہے جبکہ پوری دنیا میں سزائے موت دی جاتی ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ رواں برس ہونے والے عام انتخابات سے قبل سابق وزیر اعظم خالدہ ضیاء کی سربراہی میں چلنے والی اپوزشن عوامی جذبات کو حکومت کے خلاف بھڑکا رہی ہے۔

دوسری جانب سے اپوزیشن جماعت بنگلادیش نیشنل پارٹی نے حکمران جماعت کی جانب سے عائد کیے جانے والے تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں