The news is by your side.

Advertisement

چار بار خودکشی کی کوشش کرنے والی نیوز کاسٹر خبریں پڑھتے ہوئے رونے لگی

ڈھاکا: بنگلا دیش میں جنسی استحصال کی وجہ سے چار بار خودکشی کی کوشش کرنے والی خواجہ سرا نیوز کاسٹر خبریں پڑھتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو دیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ تشنوا نے پیر کے روز پسرکاری ٹیلی ویژن پر خبریں پڑھ کر پہلی خواجہ سرا نیوز کاسٹر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔

انہیں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پہلی بار ٹی وی اسکرین پر آکر خبریں پڑھنے کا موقع دیا گیا۔ تشنوا نے خبریں پڑھنا شروع کیں تو اُن کی آنکھیں نم ہوئیں اور پھر خبرنامہ ختم ہونے کے بعد وہ آبدیدہ ہوئیں۔

کمال حسین سشیر  کے نام سے پیدا ہونے والی تشنوا کو کم عمری میں ہی اس بات کا احساس ہوگیا تھا کہ وہ خواجہ سرا ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کئی سالوں تک میرے ساتھ بدتمیزی کے واقعات پیش آئے اور مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بنگلا دیش میں خواجہ سراؤں کی تعداد 15 لاکھ کے قریب ہے جن کو مختلف مقامات پر تضحیک اور جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے بعد چار بار خودکشی کی کوشش بھی کی، مگر ہر بار والد نے مجھے بچایا‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پڑوسی نے میری چال ڈھال سے متعلق والد کو بتایا تو اُس کے بعد مجھے بہت زیادہ شرمندگی ہوئی جس کے بعد میں گھر سے بھاگ گئی تھی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے ڈھاکا کے مغربی ضلع میں اکیلے رہائش اختیار کی اور زندگی سے لڑنے کا فیصلہ کیا، بعد ازاں مجھے کچھ ایسے لوگ ملے جنہوں نے میرا نفسیاتی علاج کروایا اور پھر میں نے فلاحی ادارے میں ملازمت کے ساتھ تعلیم کو جاری رکھا‘۔

بنگلا دیش کے محکمہ تعلیم کے مطابق رواں سال جنوری میں تشنوا نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد وہ  اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی پہلی خواجہ سرا بن گئیں تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں