The news is by your side.

Advertisement

دہشت گردوں کی مالی معاونت :ملک بھر میں 4863 افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے گئے

اسلام آباد : نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی نےملک بھرمیں چارہزار آٹھ سو تریسٹھ افرادکےبینک اکاؤنٹس منجمد کردیے، منجمد اکاؤنٹس سے تیرہ کروڑ ساٹھ روپے بھی ضبط کرلیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کیلئے حکومت نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ملک بھر میں چار ہزار آٹھ سو تریسٹھ افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کردیئے اور اسٹیٹ بینک نے اکاؤنٹس میں موجود تیرہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے بھی ضبط کرلئے ہیں۔

نیکٹا کی جانب سے کارروائی ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنےکی شرائط کےتناظرمیں کی گئی۔

نیکٹا رپورٹ کے مطابق ملک بھر سے مزید ایک سو اٹھہتر افراد کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کرلیا گیا ہے، تمام افراد کے نام سیکیورٹی اداروں کی اطلاع پرشامل کیےگئے ہیں جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کےتحت آٹھ ہزارتین سو سات افرادفورتھ شیڈول میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا اب تک انہترتنظیموں کوکالعدم قرار دیا جا چکا ہے اور دو تنظیموں کی نگرانی کی جارہی ہے، نام بدل کرکام کرنےوالی بیس سےزائد تنظیموں کےخلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

گذشتہ روز نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی نے سال2018کے حوالے سے اپنی رپورٹ وزیر اعظم عمران خان کو پیش کی تھی ، رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ماضی کی نسبت واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم دہشت گردی میں کمی کے باوجود صوبہ بلوچستان زیادہ متاثر رہا۔

مزید پڑھیں : پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، نیکٹا رپورٹ وزیر اعظم کو پیش

بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردی میں مجموعی طور پر22فیصد کمی آئی، رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں دہشت گردی سے517افراد جاں بحق ہوئے، جاں بحق 288 افراد کا تعلق بلوچستان سے ہے ۔

نیکٹا رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ سندھ میں سال2018میں80فیصد دہشت گرد حملوں میں کمی آئی ہے، پنجاب اور اسلام آباد میں50،اورآزاد کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات میں67فیصد کمی سامنے آئی۔

رپورٹ کے مطابق دہشت گردانہ کارروائی میں فاٹا میں138کے پی میں59افراد جاں بحق ہوئے، پنجاب میں15سندھ میں دس افراد دہشت گردی کی واداتوں میں جاں بحق ہوئے، اس کے علاوہ گلگت بلتستان میں پانچ ،آزاد کشمیر،اسلام آباد میں ایک ایک شخص جاں بحق ہوا۔

خیال رہے فروری میں ہونے والے اجلاس میں فنانشل ایکٹ ٹاسک فورس نے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کو گزشتہ سال فنانشل ایکٹ ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، جس پر پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی معاونت کرنے جیسے الزامات کا جائزہ لیتے ہوئے سدباب کے لیے اقدامات اٹھائے تھے۔

فنانشل ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان نے پانچ سوالوں پر تسلی بخش رپورٹ جمع کرائی، پاکستانی اداروں نے 8500 کے قریب مشکوک ٹرانزیکششن کا پتہ لگایا، انتہا پسندی میں ملوث تنظیموں پر پابندی لگائی گئی ہے، جیش محمد، لشکر طیبہ، فلاح انسانیت جیسی تنظیموں کے اثاثہ جات ضبط کیے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں