The news is by your side.

Advertisement

شہباز حکومت کے لیے مشکل، بی اے پی کا حمایت واپس لینے پر غور

کوئٹہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) نے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی حمایت واپس لینے پر غور شروع کر دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان کے خلاف تحریک عدم اعتماد ہر پل ایک ڈرامائی موڑ لے رہی ہے، بی اے پی نے وفاقی حکومت سے حمایت واپس لینے پر غور شروع کر دیا ہے، جس سے شہباز حکومت کے لیے مشکل پیدا ہو گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رات گئے جام کمال گروپ کے بی اے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے ایک اہم میٹنگ کی، جس میں ارکان نے یہ تجویز دی کہ پی ڈی ایم کی جن جماعتوں نے عمران خان کی تبدیلی کے وقت انھیں بلوچستان میں عدم اعتماد اور تبدیلی کے حوالے سے جو یقین دہانیاں کرائی تھیں، اگر وہ اس پر عمل درآمد نہیں کرتی ہیں تو پھر بی اے پی وفاقی حکومت سے حمایت واپس لینے پر غور کرے۔

بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی جانب سے صدر بی اے پی جام کمال کو یہ تجویز دی گئی ہے کہ اگر پی ڈی ایم ساتھ نہیں دیتی تو وفاقی حکومت میں شمولیت کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

اس وقت بی اے پی نے شہباز حکومت کو قومی اسمبلی میں 4 ووٹ دیے ہیں، جب کہ وفاقی حکومت کو ایوان میں صرف 2 ووٹ کی برتری حاصل ہے، ایسے میں اگر بی اے پی اپنی حمایت واپس لیتی ہے تو دو ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی وفاقی حکومت ختم ہو جائے گی۔

انتہائی قابل اعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں اراکین نے جام کمال کو حمایت واپس لینے کی تجویز دی، جس کے بعد جام کمال نے گزشتہ رات ٹویٹ کیا جس میں انھوں نے پی ڈی ایم پر زور دیا کہ وہ کیے گئے وعدوں کو پورا کریں۔

اگرچہ بی اے پی نے فی الوقت واضح الفاظ میں وفاقی حکومت چھوڑنے کی بات نہیں کی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات اس آپشن پر بہت سنجیدگی کے ساتھ غور ہوا ہے، اور بی اے پی صدر نے قومی اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعت سے مشاورت شروع کر دی ہے۔

جام کمال نے ٹویٹ کیا کہ آج ہم عدم اعتماد کی قرارداد پیش کر رہے ہیں، ہم پی ڈی ایم پارٹیوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ عمران خان کے دور میں مسلط کی گئی اور اب بھی شہباز شریف کے دور سے لطف اندوز ہونے والی بلوچستان کی بدعنوان اور بے ایمان حکومت کو ہٹانے کے اپنے وعدے کو پورا کریں گی۔

واضح رہے کہ بلوچستان صوبائی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کا اجلاس آج 10 بجے ہوگا، جام کمال، سردار یار محمد رند اور اصغر اچکزئی سمیت 14 اراکین اس تحریک کے محرک ہیں، تحریک پر دستخط کرنے والے پی ٹی آئی رکن مبین خلجی نے رات گئے تحریک سے لا تعلقی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جام کمال اور ان کے گروپ کو تحریک پیش کرنے کے لیے 14 اراکین اسمبلی کی حاضری یقینی بنانا ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں