site
stats
صحت

سردرد سمیت دیگر بیماریوں کا علاج ’کڑی پتے‘ سے ممکن

کراچی: کیا آپ جانتے ہیں کہ ’کڑی پتے‘ کے استعمال سر درد سمیت دیگر بیماریوں سے نجات دلانے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے؟۔

تفصیلات کے مطابق قدرت نے بعض پودوں میں ایسی افادیت رکھی ہے کہ اگر اُن کا باقاعدہ استعمال کیا جائے تو ہم کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

کڑی پتے کو کھانے میں ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم اس میں کئی طبی فوائد چھپے ہیں۔

فوائد

روزانہ نہار منہ یا کھانے کے ساتھ کڑی پتے کا استعمال نظامِ ہاضمہ کو بہتر اور معدے کی خرابی کو دور کرتا ہے، اگر رات میں چند پتوں کو پانی میں بھگو کو اس کا پانی نہار منہ استعمال کیا جائے تو ہاضمے کی بیماری سے باآسانی نجات حاصل ہوجاتی ہےْ

گردے کی پتھری

اگر آپ کے گردے میں پتھری ہے تو اس کے پتوں کا استعمال بغیر آپریشن پتھری کو باہر نکالنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

بالوں کی سفیدی اور نشو ونما

اکثر نوجوانوں کو وقت سے پہلے بالوں کے سفید ہونے اور ان کے جھڑنے کی شکایت ہوتی ہے، اگر روزانہ کڑی پتے کھانے کے بعد استعمال کیے جائیں تو بالوں کی نشوونما بہتر ہوتی ہے اور ان کی سیاہی دوبارہ آجاتی ہے۔

جلدی مسائل

کڑی پتے کو کھانے یا پھر اسے جلد پر لگانے سے چہرے کے کیل مہاسے اور جھائیوں دور ہوجاتی ہیں جبکہ جلد پر لگے داغ دھبے بھی ختم کرنے میں کڑی پتا بہت کارآمد ہے۔

زہریلے کیڑے کے کاٹنے کا زخم

اگر کسی شخص کو کوئی زہریلا سانپ، بچھو یا کوئی دوسرا جانور کاٹ لے تو چند پتے لے کر فوری زخم پر لگائیں ایسا کرنے سے زہر کا اثر ختم ہوجائے گا۔

سر درد کے لیے مفید

سردرد کی شکایت والے حضرات اگر کڑی پتے کے تیل کی مالش کریں تو انہیں درد سے نجات حاصل ہوجاتی ہے۔

تیل بنانے کا طریقہ

زیتون کے 250 ملی لیٹر تیل کو ایک بوتل میں ڈالیں اور پھر اُس میں 30 گرام کڑی پتے شامل کر کے دو ہفتے کے لیے چھوڑ دیں، بعد ازاں تیل کو کپڑے سے چھان کر دوسری بوتل میں ڈالیں اور اسے مالش کے لیے استعمال کریں جس کے بعد سر درد سے افاقہ ہوگا۔

نوٹ: کسی بھی مرض میں مبتلا افراد طبیب کے مشورے کے بعد کڑے پتے کا استعمال کریں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top