The news is by your side.

Advertisement

پولیس افسر بننا افغان خاتون کا جرم بن گیا، شرپسندوں نے بینائی چھین لی

کابل : افغان پولیس میں بھرتی ہونے کی پاداش میں شرپسندوں نے خاتون اہلکار کو آنکھوں سے محروم کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق انسانیت سوز پر واقعہ افغانستان کے صوبہ غزنی میں پیش آیا جہاں تین نامعلوم افراد نے پولیس میں نوکری کرنے پر ایک خاتون پر حملہ کرکے بینائی سے محروم کردیا۔

خاطرہ نامی خاتون حملے سے تین ماہ قبل ہی پولیس میں بھرتی ہوئیں تھی تاہم ان کے والد کو خاطرہ کا گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں تھا۔

خاطرہ نے غزنی پولیس کی کرائم برانچ میں بطور افسر ڈیوٹی سنبھالی اور اس ذمہ داری کو انجام دیتے تین ماہ گزرے تھے کہ ایک دن ڈیوٹی سے گھر جاتے ہوئے تین نامعلوم نے ان پر فائرنگ کردی اور پھر چھری سے آنکھوں کو نقصان پہنچایا۔

خاطرہ کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی سرجری کی گئی، آپریشن کے بعد ان کی جان کو بچ گئی لیکن وہ آنکھوں کی نعمت سے محروم ہوگئیں کیونکہ حملہ آوروں نے ان کی آنکھوں پر چھری سے وار کیے تھے۔

خاتون پولیس اہلکار اور ان کے ڈپارٹمنٹ نے حملے کا الزام طالبان پر لگایا ہے تاہم طالبان اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ حملہ خود خاطرہ کے والد نے کروایا ہے کیونکہ انہیں اپنی بیٹی کا گھر سے نکلنا پسند نہیں تھا۔

خاطرہ نے اس حملے میں نہ صرف اپنی آنکھیں گنوائیں بلکہ انکے وہ خواب بھی چکنا چور ہوگئے جس کے حصول کے لیے انہوں نے جدوجہد کی۔

خاطرہ کا کہنا تھا کہ کاش میں ایک سال تک پولیس میں کام کرتی۔ اگر یہ اس کے بعد بھی ہوتا تو یہ میرے لیے کم تکلیف دہ ہوتا۔ یہ واقعہ بہت جلد ہوگیا۔ میں نے صرف تین ماہ ہی کام کیا۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ خاطرہ اپنے خاندان اور پانچ بچوں کے ہمراہ کابل میں روپوش ہیں، جہاں ان کا علاج بھی جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ ایک دن بیرون ملک مقیم ایک ڈاکٹر ان کی بینائی جزوی طور پر بحال کر دے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں