site
stats
عالمی خبریں

چین: کمسن طلبہ کو منشیات کے انجیکشن لگائے جانے کا ہولناک انکشاف

بیجنگ: چین کے دارالحکومت میں واقع ننھے طالب علموں کو خاموش اور قابو میں رکھنے کے لیے نجی اسکول کی جانب سے منشیات کے انجیکشن لگائے جانے کا انکشاف ہوا جس کے بعد والدین میں شدید تشویش پھیل گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے دارالحکومت میں واقعی نجی اسکول (آر وائی بی ایجوکیشن) میں بچوں کو اسکول اوقات میں قابو میں رکھنے اور خاموش کروانے کے لیے ٹیچرز کی جانب سے نشہ آور ادویات کھلانے اور منشیات کے انجیکشن لگائے جائے کا واقعہ سامنے آیا۔

والدین کا مؤقف ہے کہ اسکول سے گھر آنے کے بعد بچوں کے بازؤں پر سوئی کے نشانات واضح تھے، جب اس معاملے کی تحقیقات کے لیے اسکول انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پہلے صاف انکار کیا تاہم بعد میں اعتراف کیا کہ 3 اساتذہ بچوں کو خاموش رکھنے کے لیے نشہ آور ادویات کھلاتے اور انجیکشن لگاتے ہیں۔

مذکورہ طالب علموں کے والدین کا کہنا ہے کہ ’ہمارے بچوں کو روزانہ لنچ (دوپہر کے کھانے) کے بعد 2 سفید رنگ کی گولیاں اور شربت پلایا جاتا تھا جس کے بعد بچے گہری نیند سو جاتے تھے اور اسکول سے واپس آنے کے بعد گھنٹوں تک وہ سوتے رہتے تھے‘۔

مزید پڑھیں: مختلف تعلیمی اداروں سےچھ کلو سے زائد منشیات برآمد،20ملزمان گرفتار

والدین نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ اُن کے بچوں کو کہنا نہ ماننے پر اندھیرے کمروں میں کپڑے اتار کر سزا کے لیے کئی گھنٹوں کھڑا کیا جاتا تھا۔

اسکول کی جانب سے نرسری کے بچوں کے ساتھ گھناؤنے فعل پر والدین نے شدید احتجاج کیا  اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا جس کے بعد اسکول انتظامیہ نے واقعے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کیں۔

اسکول انتظامیہ نے اعتراف کیا کہ ہے کہ اس گھناؤنے کام میں تین ٹیچرز ملوث پائے گئے جنہیں نوکریوں سے برطرف کرتے ہوئے اُن کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں۔

منتظمین نے والدین سے معافی طلب کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی بھی کروائی ہے کہ آئندہ اس قسم کے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔

بیجنگ میونسپل کیمشن آف ایجوکیشن نے تمام اسکولوں میں بچوں کے منشیات دینے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جبکہ پولیس نے آر وائی بی اسکول سے سی سی ٹی وی فوٹیج لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: طلباء کومنشیات فراہم کرنے والا کالج پروفیسرگرفتار

چینی میڈیا کے مطابق تینوں اساتذہ کو پولیس نے تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا ہے اور اگر اُن میں سے کوئی قصور وار پایا گیا تو قوانین کے تحت سخت سزائیں دی جائیں گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top