The news is by your side.

Advertisement

وزیر اعظم کے استعفے تک کوئی بات نہیں ہوگی: بلاول بھٹو کا اعلان

کراچی: پیپلز پارٹی نے اسمبلیوں میں رہ کر حکومت کا مقابلہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اے پی سی کے تحت طے ہونے والے پی ڈی ایم ایکشن پلان کے مطابق ہی چلیں گے، ڈائیلاگ کا وقت گزر چکا، وزیر اعظم کے استعفے تک کوئی بات نہیں ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق بلاول ہاؤس کراچی میں‌پیپلز پارٹی کے سی ای سی اجلاس کے بعد بلاول بھٹو نے میڈیا بریفنگ دی، انھوں نے اے آر وائی نیوز کے ذرایع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا پیپلز پارٹی سینیٹ الیکشن لڑے گی، ہم چاہتے ہیں تمام جماعتیں مل کر سینیٹ الیکشن میں حکومت کا مقابلہ کریں، پی ڈی ایم اسی طرح کامیاب ہو  سکتی ہے۔

پی پی چیئرمین نے کہا اسٹیبلشمنٹ پیچھے سے ہٹ جائے حکومت خود گر جائے گی، اسٹیلبشمنٹ کا سیاست میں عمل دخل ہے جس نے حکومت کو سلیکٹ کیا، ہم چاہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں عمل دخل ختم ہو، وقت آ گیا ہے کہ سیاست میں بیرونی مداخلت کو ختم کیا جائے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا ہماری پارٹی کی پالیسی ہے کہ پی ڈی ایم کے ایکشن پلان کے تحت چلنا چاہیے، پالیسی تھی کہ 31 دسمبر تک تمام ارکان قیادت کو استعفے دیں، ہمارے تمام ارکان قیادت کو استعفے جمع کرا دیں گے۔  سی ای سی کی ذرائع سے چلنے والی خبروں کی تصدیق کروں گا نہ تردید، ہمارے ارکان کو اپنی رائے دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

نواز شریف کی واپسی لانگ مارچ سے مشروط کرنے سے متعلق صحافیوں کے سوال پر بلاول بھٹو نے جواب دیا کہ اے پی سی کے تحت پی ڈی ایم ایکشن پلان کے مطابق ہی چلیں گے، استعفے دینے کا وقت مشاورت سے طے کیا جائے گا، استعفے جمع کرانے کا فیصلہ پی ڈی ایم میں ہونا باقی ہے، استعفے کس وقت دیے جائیں یہ فیصلہ پی ڈی ایم اجلاس میں مشاورت سے ہوگا۔

ڈبل گیم کا خدشہ، سی ای سی نے استعفوں کو نواز شریف کی واپسی سے مشروط کر دیا

پی پی چیئرمین نے کہا سی ای سی اجلاس میں شفاف الیکشن کا مطالبہ کیاگیا ہے، 2018 کی دھاندلی دوبارہ نہ ہو، ہم سمجھتے ہیں مردم شماری درست نہیں ہوئی جس پر سندھ سمیت فاٹا اور دیگر صوبوں نے بھی تحفظات کا اظہار کیا، ہم چاہتے ہیں ری چیک کی بنیاد پر مردم شماری ریویو کرنی چاہیے، حکومت نے مردم شماری پر تحفظات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطہ کریں گے جنھوں نے مردم شماری پر اعتراض کیا، یہ پورے پاکستان کا ایشو ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا ڈائیلاگ کا وقت گزر چکا ہے اب کوئی بات نہیں ہو سکتی، وزیر اعظم کے استعفے تک کوئی بات نہیں ہوگی، یہ وقت حکومت کے گھر جانے کا ہے، نا اہل حکومت کو پارلیمنٹ اور عدالتوں میں چیلنج کرنا چاہیے، حکومت کے خلاف پنجاب اور قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لانی چاہیے، جمہوریت میں آپ کو ہر اختیار اور ہر فورم استعمال کرنا چاہیے۔

پی پی چیئرمین نے کہا موجودہ حکومت پر ہر طرف سے حملہ کیا جائے گا، لیکن استعفے ایٹم بم ہیں، سی ای سی نے اس آپشن کی مخالفت نہیں کی، استعفے کس وقت دینے ہیں پی ڈی ایم نے ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

بلاول کا کہنا تھا مردان جلسے میں پیپلز پارٹی کے نمائندے موجود تھے لیکن خطاب کا موقع نہیں ملا، میڈیا میں پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے ہر بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے، خواجہ آصف کی گرفتاری سیاسی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں