The news is by your side.

Advertisement

ہم جنگل کا قانون چلانےکی اجازت نہیں دیں گے، بلاول بھٹو

پاراچنار: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان کشمیر کا سفیربنتےبنتےکلبھوشن کا وکیل بن گیا، یہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی تعریف اس لیےکرتاہے کیونکہ اس کی اور بھارت کی خارجہ پالیسی ایک ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاراچنار میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وزیراعظم کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سلیکٹڈ عمران اپنی اکثریت کھوچکا، ذرا سا کارڈکھا کر بتادیا کہ عمران کی حکومت ختم، اس لیے یہ بزدل کی طرح بھاگ رہاہے، خان مقابلےسےنہیں بھاگتے یہ تو بھاگ رہاہے۔

بلاول بھٹو نے عوام سے سوال کیا کہ کونسا کپتان پچ چھوڑ کربھاگ جاتاہے، یہ تو کہتا تھا کہ عدم اعتماد لےکر آؤ جب لےکرآئےتو اب بھاگ رہاہے، عمران خان اسپورٹ مین اسپرٹ دکھاؤ، کھلاڑی بنو،بہادرہوتو مقابلہ کرو، 172ارکان نہیں لاسکتےتوبنی گالہ میں جاکربیٹھو۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ میں نے سب کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم میں جمع کیا، استعفیٰ کے معاملے میں اپوزیشن ایک طرف اور میں دوسری طرف تھا، میں نے کہا کہ استعفیٰ مت دیں، حکمرانوں کو کھلا میدان نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں بھی میں نے کہا کہ میدان مت چھوڑیں، جب اپوزیشن نے میری بات مانی تو ضمنی انتخابات کا منظرسب نے دیکھا، ساتھیوں نے کہا عمران خان کے پیچھے سہولت کار ہیں، سینیٹ انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی نے بائیکاٹ کرنے سے انکار کیا، ہم نے کہا احتجاج ضرور کریں لیکن پارلیمان اصل میدان ہے۔

بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ عمران چاہتاہےکہ ہر ادارہ ٹائیگر فورس کی طرح کام کرے، کسی کو اجازت نہیں دیں گےکہ ہمارے اداروں کو متنازع بنائے،قومی اداروں کو پاکستانی بناتے ہیں کوئی ایک شخص نہیں بناتا۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے وزیراعظم عمران خان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بوٹ پالش جب آپ نےختم کردی ہےتو اب آپ بوٹوں کو چاٹنےپر اتر آئے ہیں۔

پاراچنار میں جلسہ عام سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کس منہ سےکرپشن کی بات کرتےہیں، عمران خان جھوٹ بولنابند کریں، ورنہ خاتون اول کی کرپشن سامنےلائیں گے، ہمیں پتہ ہےکہ عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ بننےکے لیےکہاں پیسہ پکڑایاتھا، عمران تو آج تک اپنےکرکٹ کےکھلونےبیچ کر اپنا کچن تو نہیں چلارہاہےناں،کچھ تو دال میں کالاہے۔

وزیراعظم کی جانب سے اردو زبان پر تنقید پر جوابی وار کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میری اردو تین سال میں کمزور آپ کی ستر سال میں بھی ٹھیک نہ ہوئی، آپ کےتین بچے ہیں ان کو اردوسکھائیں، پاکستان ہر زبان بولنے والوں کاہے، ہم پاکستان کےبچوں کواردو،انگریزی اورمادری زبان سکھائیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ مدینہ کی ریاست نہیں اس کی توہین ہے، عمران خان کی ریاست میں غیرمناسب زبان استعمال کی جاتی ہے، یہ کیسی ریاست ہے جس میں امیروں کے لیے ریلیف اور غریبوں کو تکلیف دی جاتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں