The news is by your side.

بلقیس بانو کیس: امریکا سے بھی صدائیں بلند ہونے لگیں

واشنگٹن: بھارت میں بلقیس بانو سے اجتماعی زیادتی کرنے والے گیارہ مجرمان کی بریت کے فیصلے پر امریکا سے بھی آوازیں بلند ہونے لگیں ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن کے نائب صدر ابراہم کوپر نے ایک بیان میں کہا کہ یو ایس سی آئی آر ایف گجرات فسادات کے دوران ایک حاملہ مسلم خاتون سے اجتماعی زیادتی کرنے اور مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کرنے والے گیارہ افراد کی قبل از وقت اور غیر منصفانہ رہائی کی مذمت کرتا ہے۔Image

یو ایس سی آئی آر ایف کے کمشنر اسٹیفن شنیک نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ گجرات فسادات میں جسمانی اور جنسی تشدد میں ملوث مجرموں کو جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام رہنا، انصاف کا مذاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ تشدد کرکے سزا سے بچ جانے کے پیٹرن کا حصہ ہے۔

بلقیس بانو کون ہیں؟

یاد رہے کہ سال دو ہزار دو میں بلقیس بانو کو اکیس سال کی عمر میں گودھرا ٹرین جلانے کے واقعے کے بعد ہونے والے مسلم کش فسادات میں اس وقت درندگی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ پانچ ماہ کی حاملہ تھیں اور اس واقعے میں ان کے خاندان کے سات افراد کو انتہائی بے رحمی سے قتل بھی کیا گیا۔

ستائیس فروری 2002 کو گودھرا میں سابرمتی ٹرین کو جلائے جانے کے بعد گجرات بھر میں مسلم کش فسادات شروع ہوگئے تھے۔Imageتشدد پھیلنے کے خوف سے بلقیس اپنی ساڑھے تین سالہ بیٹی اور خاندان کے 15 دیگر افراد کے ہمراہ رندھیک پور نامی اپنے گاؤں کی طرف چلی گئی اور چھپرواڈ ضلع میں پناہ لی لیکن بدقسمتی نے اس کا پیچھا یہاں بھی نہ چھوڑا۔

تین مارچ کو تیس کے لگ بھگ وحشی نما انسانوں نے جو درانتیوں، تلواروں اور لاٹھیوں سے مسلح تھے نے بلقیس اور اس کے خاندان پر حملہ کردیا۔

ان وحشیوں نے بلقیس، اس کی والدہ اور دیگر تین خواتین کی عصمت دری کی اور خاندان کے افراد کو انتہائی بیدردی سے قتل کیا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملزمان نے بلقیس کی کمسن بچی کو زمین پر پٹخ کر مار ڈالا۔ اس سانحے میں صرف تین افراد ہی زندہ بچ سکے جن میں بلقیس، ایک مرد اور ایک تین سالہ بچہ شامل تھا۔

Imageاس وقت کی رپورٹس کے مطابق بلقیس کو اس قیامت صغریٰ بیتنے کے تین گھنٹے بعد ہوش آیا تو اس نے ایک خاتون سے کپڑے لے کر اپنا بے لباس تن ڈھانپا اور ہوم گارڈ کی مدد سے شکایت درج کرانے لمکھیڑا پولیس اسٹیشن گئی جہاں اسے طبی معائنے کیلیے سرکاری اسپتال لے جایا گیا۔

اس کا مقدمہ قومی انسانی حقوق کمیشن (NHRC) اور سپریم کورٹ نے اٹھایا جس نے مرکزی تفتیشی بیورو کو تحقیقات کا حکم دیا۔

دو سال بعد 2004 میں اس کیس کے ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور احمد آباد میں اس مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تاہم سی بی آر کے ذریعے جمع کیے گئے شواہد سے چھیڑ چھاڑ اور متاثرہ خاتون کے گواہوں کو نقصان پہنچنے کے خدشے کے اظہار کے بعد بھارتی سپریم کورٹ نے یہ کیس ممبئی منتقل کردیا۔

چار سال تک مقدمے کی سماعت ہوتی رہی اور آخر کار 2008 میں خصوصی سی بی آئی عدالت نے گیارہ ملزمان پر حاملہ خاتون کی عصمت دری، قتل اور غیر قانونی طور پر جمع ہونے کی سازش کے الزامات ثابت ہونے پر تعزیرات ہند کے تحت عمر قید کی سزا سنائی اور دیگر سات ملزمان جن میں پولیس اہلکار اور دو ڈاکٹرز بھی شامل تھے کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا جب کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ایک ملزم کی موت بھی واقع ہوچکی تھی۔Imageعدالتی فیصلے کے مطابق جسونت بھائی نائی، گووند بھائی نائی اور نریش کمار موردھیا (متوفی) نے بلقیس کی عصمت دری کی جب کہ شیلیش بھٹ نے اس کی کمسن بیٹی کو زمین پر پٹخ کر قتل کیا اس مقدمے میں دیگر جن کو سزا سنائی گئی تھی ان میں رادھے شیام شاہ، بپن چندر جوشی، کیسر بھائی ووہنیا، پردیپ ووہنیا، بکا بھائی ووہنیا، راجو بھائی سونی، نتیش بھٹ، رمیش چندنا اور ہیڈ کانسٹیبل سوما بھائی گوری شامل تھے۔

2017 میں ممبئی ہائیکورٹ نے گینگ ریپ کیس میں تمام مجرموں کی سزا اور عمر قید کو برقرار رکھا تھا جب کہ اپریل 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو ہدایت کی تھی کہ بلقیس بانو کو 50 لاکھ روپے معاوضے کے ساتھ ساتھ اس کی پسند کی نوکری اور رہائش بھی دی جائے۔

گجرات حکومت کی جانب سے ان تمام مجرموں کو معاف کیے جانے کے بعد چند روز قبل رہا کردیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں