The news is by your side.

Advertisement

“ضرورت پڑی تو سندھ حکومت بھی قربانی دینےکو تیار ہیں”

لاہور: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ ہم اپوزیشن کرنا اور مزاحمت کرنا جانتے ہیں، ضرورت پڑی تو سندھ حکومت بھی قربانی دینےکو تیار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لئے اکتیس جنوری کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ آپ اکتیس جنوری تک مستعفی ہوجائیں ورنہ دمادم مست قلندر ہوگا، دمادم مست قلندر کا فائدہ اپوزیشن کو ہی ہوگا اور حکومت کا نقصان ہی ہے، حکومت کوہماری مہلت بہت قابل فہم ہے، ہم ان کو وارننگ اور موقع دے رہےہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہماری تحریکیں چلانےکی ایک تاریخ ہے ، مذاکرات کےذریعے انہوں نےایک آمر کو نکالا، ہم اپوزیشن کرنا اور مزاحمت کرنا جانتے ہیں، اس وقت میں ہم کسی سےبات چیت نہیں کرسکتے، ہمیں اس سلیکٹڈ حکمران کا مقابلہ کرناہے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اسٹرٹیجی اور طریقہ کار سب کچھ فیصلوں سےہوگا، ضرورت پڑی تو سندھ حکومت کی بھی قربانی دینےکوتیارہے، وزیراعظم اپنی جگہ چھوڑیں توبات چیت کی جگہ بنے گی، وزیراعظم ، وزیراعلیٰ اوراسپیکر کٹھ پتلی ہو تو مذاکرات کیسےہونگے؟ لانگ مارچ اوراستعفوں کےایٹم بم استعمال کرنےکی حکمت عملی بنائیں گے اسٹرٹیجی وہ ہوگی جس سے ملک کو مشکل میں نہ ڈالاجائے، بلکہ ملک کو مشکل سےنکالنےکی کوشش کریں گے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سقوط مشرقی پاکستان اور سانحہ اےپی ایس ہمارے ذہنوں میں تازہ ہے، وزیراعظم کہتے ہیں کہ کسی کو چھوڑیں گے نہیں، سب کےسامنے ہےکہ انہو ں نےدشمنوں کوچھوڑا ہے، اےپی ایس سانحہ میں ملوث احسان اللہ احسان خود بخودجیل سےنکلا بھگوڑا بناہوا ہے، بلاول نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے صرف سیاسی رہنماؤں اور آواز اٹھانے والوں کو بند کرنا ہے، حکومت سانحہ اے پی ایس میں ملوث شخص کو پکڑنےکی کوشش نہیں کررہی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں