The news is by your side.

Advertisement

چین کا بڑا قدم، بٹ کوائن کی قیمت گر گئی

بیجنگ: ایلون مسک کی ٹوئٹس سے بٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا تھا، تاہم اب چین کی جانب سے سخت اقدام کے بعد بٹ کوائن کی قیمت پھر کم ہو گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین کے سخت ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد سے بٹ کوائن کی قیمت میں پھر کمی آ گئی، گزشتہ ہفتے ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کی ٹوئٹس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ ہو گیا تھا، لیکن چین کی جانب سے بٹ کوائن کے حوالے سے کریک ڈاؤن میں توسیع کی وجہ سے اس کی قیمت میں پھر کمی آگئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں پیر کے روز بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 10 فی صد کمی دیکھی گئی، بٹ کوائن اب 32،288 ڈالرز میں فروخت ہو رہا ہے، جب کہ یہ قیمت 12 روز کی کم ترین سطح ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بٹ کوائن کی قیمت میں یہ کمی برقرار رہتی ہے تو رواں ماہ میں کرپٹو کرنسی کی قدر میں یہ سب سے زیادہ کمی ہوگی۔

یاد رہے کہ 18 جون کو چین کے جنوب مغربی صوبے سیچوان میں حکام نے کرپٹو کرنسی مائننگ کے پروجیکٹس کو بند کرنے کا حکم دیا تھا، گزشتہ ماہ مالی خطرات پر قابو پانے کے اقدامات کے تحت چینی کابینہ اور ریاستی کونسل نے بٹ کوائن کی مائننگ اور تجارت پر پابندی عائد کرنے کا بھی عزم کیا تھا۔

ایلون مسک کا ایک اور ٹویٹ، بٹ کوائن کی قدر و قیمت پھر بڑھ گئی

اس پس منظر میں چین کے موجودہ کریک ڈاؤن کو سمجھنے کے لیے یہ خیال رہے کہ چین میں بٹ کوائن کی پیداوار، بٹ کوائن کی عالمی پیداوار کے نصف حصے سے بھی زیادہ ہے، جب کہ بٹ کوائن مائننگ کے لحاظ سے سیچوان چین کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔

لندن میں مقیم کرپٹو فرم بی سی بی گروپ کے بین سیبلی نے اس صورت حال پر کہا ہے کہ چینی مائنرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ کوائن کا ذخیرہ کم کر رہے ہیں، اور اس طرح ہمیں نچلی سطح پر لے کر جا رہے ہیں۔

دراصل وہ کمپنیاں جو بٹ کوائن کی کان کنی کرتی ہیں، ان کا کوئی بھی قدم قیمتوں میں بڑی کمی کا باعث بنتا ہے، گزشتہ 6 روز میں بٹ کوائن کی قیمت پانچویں بار کم ہوئی ہے، جب کہ رواں برس اس کی قیمت میں مجموعی طور پر 10 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں